بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ورثاء کے درمیان 90 لاکھ کی تقسیم


سوال

ہمارے پاس ایک دکان ہے،جسں کی کل مالیت 90لاکھ ہے، ہر ایک کے حصے میں کتنے پیسے آئیں گے، ہم پانچ بھائی اور چار بہنیں ہیں اور ایک والدہ ۔

جواب

اگر یہ دکان والدِ  مرحوم  کی میراث ہے،اور والد کا مذکورہ ورثاء کے علاوہ اور  کوئی وارث نہیں تو   والد کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہےکہ اولاً  والد مرحوم کے ترکہ سے حقوقِ متقدمہ ادا کیے جائیں گے،یعنی سب سے پہلے ترکہ کے مال سے والد کی تجہیز و تکفین کا خرچ نکالا جائے گا،پھر اگر  مرحوم  کے ذمے کچھ قرض ہو تو  وہ ادا کیا جائے گا،اس کے بعد مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہوتو اسے ترکہ کے ایک تہائی میں  نافذ کیا جائےگا، اس کے بعد بقیہ ترکہ منقولہ  و غیر منقولہ کو 16 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصے سائل کی والدہ کو ، اور2 ،2 حصے سائل اور اس کے  ہر ایک بھائی کو  اور ایک ،ایک  حصہ  سائل کی ہر ایک بہن کو ملے گا۔

صورت ِ تقسیم یہ ہے:

میت:(والد): 16/8

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹی بیٹی
17
2222221111

یعنی  دکان کی مالیت 9000000(نوے لاکھ روپے)  میں سے    1125000 (گیارہ لاکھ ، پچیس ہزار روپے) مرحوم والد کی بیوہ(سائل کی والدہ ) کو اورہر ایک بیٹے کو،اور  562500 (پانچ لاکھ باسٹھ ہزار، پانچ سو روپے) مرحوم والد کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100079

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں