بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ، ایک بیٹی اور دادا کے بھائی کے دو پوتوں میں میراث کی تقسیم


سوال

خدائیداد فوت ہوا ہے،  اس کے ذوی الفروض رشتہ داروں میں سوائے  ایک بیٹی اور بیوہ کے اور کوئی نہیں، البتہ ان کے دادا کے بھائی کے پوتے موجود ہیں  اور وہ دو بھائی اور چھ بہنیں ہیں۔ اس کے علاوہ مرحوم کی اور کوئی رشتہ دار موجود نہیں۔جو تھے وہ مرحوم کی زندگی میں فوت ہوگئے تھے۔صورت مسئولہ میں ان کی میراث کیسے تقسیم ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم خدائیداد کا ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی کفن دفن کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو اسے  ایک تہائی ترکہ سے پورا کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ و غیرمنقولہ کو سولہ  حصوں میں تقسیم کرکے دو حصے بیوہ کو، آٹھ حصےبیٹی کو اورتین حصے مرحوم کے دادا کے بھائی کے پوتوں میں سے ہر ایک کو ملیں گے، پوتیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ تقسیم کی صورت مندرجہ ذیل ہے:

خدائیداد مرحوم: 8/ 16

بیوہبیٹیدادا کے بھائی کا پوتادادا کے بھائی کا پوتادادا کے بھائی کی پوتیاں
143محروم
2833

مثلاً /100 روپے میں سے /12.50روپے بیوہ کو، /50 روپے بیٹی کو اور /18.75 روپے دادا کے بھائی کے ہر پوتے کو ملیں گے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(الباب الثالث في العصبات) وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال، كذا في الاختيار شرح المختار. فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب ثم العم لأب وأم ثم العم لأب ثم ابن العم لأب وأم، ثم ابن العم لأب ثم عم الأب لأب وأم ثم عم الأب لأب ثم ابن عم الأب لأب وأم، ثم ابن عم الأب لأب ثم عم الجد، هكذا في المبسوط."

(كتاب الفرائض، الباب الثالث في العصبات، 6/ 451، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403102064

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں