بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

تاریخ میں ایک ہی آدمی کے قتل میں کئی لوگوں سے قصاص کی مثال


سوال

ایک ہی آدمی کے قتل میں ایک سے زائد آدمیوں کے قصاص کی کوئی مثال تاریخِ اسلامی میں سے بتا دیں، حوالے کےساتھ۔

جواب

ایک ہی آدمی کے قتل میں کئی لوگوں کو قتل کرنا اجماعِ صحابہ سے ثابت ہے، چناچہ کتبِ تاریخ  واحاديث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے کا ایک مشہور قصہ نقل کیا جاتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں سات لوگوں نے مل کر ایک شخص کو قتل کیا، تو اس قتل پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سات  افراد کو قصاصاً قتل کیا، پھر فرمایاکہ " اہل صنعاء کے لوگ اگر اس ایک جان کو مل کر بھی قتل کرتے تو میں ان سب کو قصاصاً قتل کردیتا"۔

صحيح بخاری میں ہے:

"حدثنا يحيى عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر رضي الله عنهما أن غلاما قتل غيلة فقال عمر لو اشترك فيها أهل صنعاء لقتلتهم."

(كتاب الديات ،ج:9،ص:8،ط:دار طوق النجاة)

مبسوط للسرخسی میں ہے:

"روي أن سبعة من أهل صنعاء قتلوا رجلا فقضى عمر - رضي الله عنه - بالقصاص عليهم وقال لو تمالأ عليه أهل صنعاء لقتلتهم به."

( کتاب الدیات، باب القصاص ،ج:26،ص:127،ط:دار المعرفۃ)

لسان الحکام میں ہے:

"وتقتل الجماعة بالواحد فإذا قتل جماعة واحدا عمدا تقتل الجماعة بالواحد لإجماع الصحابة رضي الله عنهم ،وروى أن سبعة قتلوا واحدا بصنعاء فقتلهم عمر رضي الله عنه جميعا وقال لو تمالأ أي لو اجتمع عليه أهل صنعاء لقتلتهم جميعا."

(الفصل الثالث والعشرون في الجنايات والديات والحدود،ج:1،ص:390،ط:البابی الحلبی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401100408

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں