بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح تین رکعت پڑھ لی


سوال

اگر تروایح میں تین رکعت پڑھے اور سجدہ سہو بھی کر لے، ایسا کرنے سے نماز درست ہوگی؟

جواب

تراویح کی نمازمیں دورکعت کی بجائے تین رکعت پڑھ لیں اور دسری رکعت پر قعدہ بھی نہیں کیا تو اس صورت میں وہ نماز تراویح شمار نہ ہوگی،  وقت گزرنے کے بعد  تراویح کی نیت سے ان رکعات کا اعادہ مکروہ ہے، ان رکعتوں میں کی گئی تلاوت کا اعادہ لازم ہوگا چاہے سجدہ سہو بھی کیا ہو۔

اور اگر دو رکعت بعد قعدہ کر لیا تھا تو دو رکعت میں کی گئی تلاوت کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے، صرف تیسری رکعت کی تلاوت کا اعادہ کرے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولو صلى التطوع ثلاث ركعات ولم يقعد على رأس الركعتين، الأصح أنه تفسد صلاته". (3/484)

 

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله: أو ترك قعود أول) ؛ لأن كون كل شفع صلاة على حدة يقتضي افتراض القعدة عقيبه؛ فيفسد بتركها، كما هو قول محمد، وهو القياس، لكن عندهما لما قام إلى الثالثة قبل القعدة فقد جعل الكل صلاةً واحدةً شبيهةً بالفرض، وصارت القعدة الأخيرة هي الفرض، وهو الاستحسان، وعليه فلو تطوع بثلاث بقعدة واحدة كان ينبغي الجواز اعتبارًا بصلاة المغرب، لكن الأصح عدمه؛ لأنه قد فسد ما اتصلت به القعدة وهو الركعة الأخيرة؛ لأن التنفل بالركعة الواحدة غير مشروع فيفسد ما قبلها". (2/32)

 

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 98):

"وإذا فسد الشفع وقد قرأ فيه لايعتد بما قرأه فيه، ويعيد القراءة؛ ليحصل الختم في الصلاة الجائزة".

الفتاوى الهندية (1/ 117):
"وإذا تذكروا أنه فسد عليهم شفع من الليلة الماضية فأرادوا القضاء بنية التراويح يكره".
 فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109200944

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں