بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح پڑھا کرپیسہ لینا


سوال

تراویح پڑھا کرپیسہ لینا جائز ہے؟

جواب

تراویح کی نماز میں قرآن مجید سنا کر اجرت لینا اور لوگوں کے لیے اجرت دینا جائز نہیں، لینے اور دینے والے دونوں گناہ گار ہوں گے۔

 اگر بلاتعیین کچھ دے دیا جائے اور نہ دینے پر قاری کی طرف سے شکوہ یا شکایت نہ ہو  تو یہ صورت اجرت میں داخل نہیں ہے، اس کی گنجائش ہے۔فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک دیکھیے:

تراویح میں ختم قرآن کے موقع قاری اور سامع کے لیے ہدیہ لینے کا حکم

تراویح پڑھانے پر اجرت لینے اور دینے کا حکم


فتوی نمبر : 144109202922

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں