بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں مسبوق اپنی نماز کیسے مکمل کرے؟


سوال

تراویح میں اگر کسی کی جماعت چھوٹ جائے تو وہ اپنی چھوٹی ہوئی  رکعت کو کیسے مکمل کر ے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مکمل تراویح رہ گئی ہو، تو صبح صادق سے پہلے پہلے  تک انفرادی  طور پر یا کسی فرد کو شامل کرکے باجماعت تراویح ادا کرلینی چاہیے، باجماعت ادا کرنا افضل ہے،  تاہم اگر ممکن نہ ہو تو اکیلے ادا کرلے، ترک نہیں کرنا چاہیے۔

اگر کوئی رکعت نکل گئی ہو تو  امام کے سلام کے بعد کھڑے ہوکر رہ گئی رکعت اسی طریقے پر مکمل کرلے جس طرح دیگر نمازوں میں ادا کی جاتی ہے، یعنی ایک رکعت رہ گئی ہو تو امام کے سلام کے بعد کھڑے ہوکر ثناء، تعوذ و تسمیہ پڑھ کر سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھے اور آخر میں قعدہ کرکے سلام پھیر دے، اور دو رکعت رہ گئی ہوں تو دونوں رکعتوں میں تلاوت کرکے آخر میں قعدہ کرکے سلام پھیر دے۔

اور تراویح کے دوران جماعت میں شامل ہو، اور کچھ رکعت رہ گئی ہوں، اور اندازا یہ ہو کہ اگر چھوٹی ہوئی رکعات پڑھوں گا تو مزید رکعات چھوٹ جائیں گی، تو اگر عشاء کی فرض نماز اور سنتیں پڑھ چکا ہو تو آتے ہی تراویح میں شامل ہوجائے، اور فرض نہ پڑھے ہوں تو پہلے فرض پڑھے، پھر تراویح میں شامل ہوجائے، اور امام کے فارغ ہوجانے کے بعد چھوٹی ہوئی رکعات صبح صادق سے پہلے پہلے ادا کرلے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200210

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں