بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی چند رکعات رہ جائیں تو ان کو ادا کرنے کا طریقہ


سوال

 کیا تراویح کی شروع کی چار رکعتیں چھوٹ جانے کی صورت میں پہلے ادا کریں گے یا تراویح ختم ہو نے کے بعد ادا کر یں گے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص تراویح کے دوران جماعت میں شامل ہو، اور اس کی  کچھ رکعت رہ گئی ہوں، اور اندازہ یہ ہو کہ اگر چھوٹی ہوئی رکعات پڑھوں گا تو مزید رکعات چھوٹ جائیں گی، تو اگر عشاء کی فرض نماز اور سنتیں پڑھ چکا ہو تو آتے ہی تراویح میں شامل ہوجائے، اور فرض نہ پڑھے ہوں تو پہلے فرض اور سنت پڑھے، پھر تراویح میں شامل ہوجائے، جب امام کی تراویح پوری ہوجائے تو وہ امام کے ساتھ وتر کی جماعت میں شامل ہوجائے اور بعد میں بقیہ تراویح پوری کرلے۔

الفتاوى الهندية (1/ 117):
"وإذا فاتته ترويحة أو ترويحتان فلو اشتغل بها يفوته الوتر بالجماعة يشتغل بالوتر ثم يصلي ما فات من التراويح وبه كان يفتي الشيخ الإمام الأستاذ ظهير الدين".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 43):

"(ووقتها بعد صلاة العشاء) إلى الفجر (قبل الوتر وبعده) في الأصح، فلو فاته بعضها وقام الإمام إلى الوتر أوتر معه ثم صلى ما فاته". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109201979

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں