بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 رمضان 1442ھ 06 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی اجرت (معاوضہ) کا حکم


سوال

 تراویح کا معاوضہ (اجرت) لینا کیسا ہے؟

جواب

تراویح  کی نماز  میں قرآنِ مجید سنا کر اجرت لینا اور لوگوں کے لیے اجرت دینا جائز نہیں، لینے اور دینے والے دونوں گناہ گار ہوں گے، اگر بلا اجرت  تراویح  میں مکمل قرآنِ  پاک  سنانے والا کوئی  دست یاب  نہ ہو تو ایسی صورت  میں بہترہےکہ "اَلَمْ تَرَكَیْفَ" سےتراویح پڑھادی جائے، اس سےبھی تراویح کی سنت ادا ہوجائےگی۔

تاہم اگر قرآنِ مجید سنانے والے کو رمضان المبارک میں تمام نمازوں یا ایک دو نماز کے لیے نائب امام بنا دیا جائے اور اس کے ذمے  ایک یا دو نمازیں سپرد کردی جائیں اور  رمضان کے آخر میں تنخواہ کے نام پر کچھ دینا جائز ہوگا۔

اسی طرح   اگر بلاتعیین  کچھ دے دیا جائے اور نہ دینے پر شکوہ یا شکایت نہ ہو اوردینا مشروط یا معروف بھی نہ ہو تو یہ صورت اجرت میں داخل نہیں ہے۔  (مأخوذ از کفایت المفتی ،3/،410۔395)

حاشية رد المحتار على الدر المختار - (6 / 56):

"فالحاصل: أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال، فإذا لم يكن للقارىء ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر!! ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان، بل جعلوا القرآن العظيم مكسباً ووسيلةً إلى جمع الدنيا، إنا لله وإنا إليه راجعون!! اهـ"

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208201186

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں