بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، دو بیٹیوں، پانچ بھائیوں اور دو بہنوں میں تقسیمِ ترکہ


سوال

ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے ہم ان کی صرف دو بیٹیاں ہیں بیٹا نہیں ہے اور ہماری والدہ حیات ہیں تو وراثت کی تقسیم کا کیا حکم ہے ؟ہمارے والدصاحب کے چھ بھائی تھے جن میں سے ایک بھائی کاانتقال والد صاحب سے پہلے ہوگیاتھا، والد صاحب کی دوبہنیں بھی ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں والدمرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر ان کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں نافذ کرنے کے بعد باقی کل ترکہ کو288 حصوں میں  تقسیم کرکے36حصے بیوہ کو،96حصےہرایک  بیٹی کو،10حصے ہرایک بھائی کواور5حصے ہرایک بہن کوملیں گے۔مرحوم کے جس بھائی کاانتقال ان کی زندگی میں ہواہے اس کا( یا اس کی اولاد اگر ہو تو ان کا ) حصہ نہیں ہے۔

   صورتِ  تقسیم یہ ہے:

میت:24/ 288

بیوہبیٹیبیٹیبھائی بھائیبھائیبھائیبھائیبہنبہن
3885
369696101010101055

یعنی سوروپے میں سے 12.50روپے بیوہ کو، 33.33روپے ہرایک بیٹی کو، 3.47روپے ہرایک بھائی کو اور1.73روپےہرایک بہن کوملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501100167

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں