بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 صفر 1444ھ 25 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کی تقسیم


سوال

 والدکے انتقال کے بعدان کی جائیدادکی تقسیم کامسئلہ درپیش ہے،اوراس سلسلےمیں آپ کی رہنمائی درکارہے۔

پہلی بیگم (ہماری والدہ)کودس سال پہلےوالدنےطلاق دےکےدوسری شادی کرلی تھی۔پہلی بیگم سے ہم چاربچے(دوبیٹے، اوردوبیٹیاں )ہیں ، جب کہ دوسری بیگم سے کوئی اولادنہیں ہے۔ایسے میں ان بیوہ (یعنی دوسری بیگم ) کاشرعی حصہ کیابنے گا؟ یادرہےکہ ان خاتون کی اپنی کوئی اولادنہیں ہے ۔ہم چاروں بچےپہلی بیگم سے ہیں۔

کچھ کاکہناہے کہ  چوں کہ ان بیوہ کی کوئی اولادنہیں ہے اس لیےوہ ترکہ کےایک چوتھائی حصہ کی حق داردہے، کچھ کاکہناہے کہ چونکہ والدبےاولاد نہیں تھےاس لیےان بیوہ کاحصہ ایک آٹھواں بنتاہے۔

معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہےاورفتوی درکارہے!

جواب

واضح رہے کہ شرعی نقطہ نظرسےاولاد نہ ہو تو بیوہ  کو مرحوم شوہر کے ترکہ سے ایک چوتھائی حصہ ملتا ہے،اگرمرحوم کی اولادموجودہوتوبیوہ کوترکہ کاآٹھواں حصہ ملتاہے،  صورتِ  مسئولہ میں  چوں کہ مرحوم کی اولادموجودہے، اگرچہ پہلی بیوی سے ہے،اس لیے بیوہ کومرحوم کے ترکہ میں سےآٹھواں حصہ ملے گا، اوروالدمرحومکے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کےحقوق متقدمہ یعنی تجہیزوتکفین کے اخراجات نکالنے کےبعد  اگرکسی کاکوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں نافذ کرنے کے بعد باقی کل ترکہ کو48 حصوں میں  تقسیم کرکے6حصے بیوہ کو، 14 حصےہرایک بیٹے کواور7حصےہرایک بیٹی کو ملیں گے ۔

صورت تقسیم یہ ہے:8/ 48

بیوہ بیٹابیٹابیٹیبیٹی
17
6141477

یعنی سوروپے میں سے 12.50روپےبیوہ کو،29.166روپےہرایک بیٹے کو، اور14.583روپے ہرایک بیٹی کوملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100089

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں