بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

تقسیم سے پہلے ایک وارث کا جائیداد پر قبضہ کرنے کا حکم


سوال

میرا بیٹا اپنی مرضی سے سادے کاغذ پر تحریر کرکے،خود کو وراثت کا خریدار ظاہر کرکے،دیگر ورثاء کو  اعتماد میں لیے بغیراور بروکر سے اصل قیمت معلوم کیے بغیر،اپنی مرضی کی قیمت درج کرکے،سب ورثاء سے اس پر دستخط کرنے کو کہتا ہے،اور یہ بھی کہتا ہے کہ ایک ایک وارث کو ادائیگی کروں گا۔لیکن ورثاء نے اس طرح کے طرزِ تقسیم پر اعتراض کیا کہ ہمیں یہ قابلِ قبول نہیں ،تو میرے بیٹے نے شرعی انداز سے اثرانداز ہوکر ڈراتے ہوئے کہ یہ دستاویز قرآن و حدیث کے مطابق ہے اور  جو وارث اس پر دستخط نہیں کرے گا،وہ قرآن و حدیث کا منکر ہوگا،یوں میرے بیٹے نے دینی جذبات کا فائدہ اٹھا کر ورثاء کو دستخط کرنے پر مجبور کیا،لیکن اس کے بعد آج تک کسی بھی وارث کو اس نےرقم کی ادائیگی نہیں کی اور نہ ہی اتنے سالوں کا کرایہ دیا ہے،اور اب میرے بیٹے نے اصل سادے کاغذ والی تحریر کو چھپا کر سٹامپ پیپر تحریر شدہ دستاویز پیش کیے ہیں،جو کہ خلافِ واقع ہےاور خلافِ حقیقت ہے۔اور اب سب ورثاء کا تقاضہ یہ ہے کہ اس نے مصنوعی دستاویز میں 2016  کے حساب سے جو قیمت (اپنی طرف سے ) درج کی ہے ،اور اس کے بعد اب تک کسی کو بھی رقم کی ادائیگی نہیں کی ہے اور اس وقت اس نے خود کو جائیدادکا خریدار اپنی مرضی سے ظاہر کیا ہے،تو اب اس کی بجائے جائیداد کی موجودہ قیمت معلوم کرکے اس کی حساب سے وراثت تقسیم کی جائے،کیا ہمارا یہ مطالبہ درست ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ مرنے والے کی وراثت اس کے تمام ورثاء میں شرعی ضابطہ کے مطابق تقسیم کی جاتی ہے، کسی ایک وارث کا تقسیم سے پہلے ہی کچھ جائیداد پر قبضہ کرلینا اور دیگر ورثاء کے کہنے کے باوجود انہیں حصہ نہ دینا شرعاً جائز نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر وقعۃً مذکورہ جائیداد وراثت کی ہے اور ایک وارث نے   دوسرےورثاء سے  غلط بیانی کرکے دستخط لے کر دستاویز میں خودکو خریدار ثابت کیا ہے تو مذکورہ  تقسیم درست نہیں ، بل کہ جائیداد میں تمام ورثاء کا شرعی حصہ ہے؛اس لیے اس جائیداد کو موجودہ قیمت کے اعتبار سے تقسیم کیا جائےگا۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ’’من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين‘‘."

(باب الغصب والعاریة،ج:1، ص: 254،  ط: قدیمی)

وفیه أیضاً: 

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ’’من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة‘‘ . رواه ابن ماجه."

  (باب الوصایا، الفصل الثالث، ج:1، ص:266، ط: قدیمی)

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے:

"وكل منهما أي كل واحد من ‌الشريكين أو الشركاء شركة ملك أجنبي في نصيب الآخر حتى لا يجوز له التصرف فيه إلا بإذن الآخر كغير الشريك لعدم تضمنها الوكالة."

(كتاب الشركة، ج:1، ص:715، ط:دار إحياء التراث العربي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما صفات القسمة فأنواع: منها أن تكون عادلة غير جائرة وهي أن تقع تعديلا للأنصباء من غير زيادة على القدر المستحق من النصيب ولا نقصان عنه؛ لأن القسمة إفراز بعض الأنصباء، ومبادلة البعض، ومبنى المبادلات على المراضاة، فإذا وقعت جائرة؛ لم يوجد التراضي، ولا إفراز نصيبه بكماله؛ لبقاء الشركة في البعض ‌فلم ‌تجز ‌وتعاد."

(كتاب القسمة، فصل في صفات القسمة، ج:7، ص: 27، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506101228

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں