بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 صفر 1444ھ 25 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

تقسیم میراث


سوال

  ایک آدمی کاانتقال ہوگیاہے، وارثین میں ایک بیوہ،تین بیٹے اورتین بیٹیاں ہیں اور اس کا متروکہ  مال ترپن لاکھ (5300000)روپے ہے۔شریعت کے روشنی میں ہروارث کوکتناحصہ ملے گا؟

جواب

 صورتِ  مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ سے  تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم پر قرض ہے تو قرض کی ادائیگی کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت (ورثاء کے علاوہ کسی کے لیے ) کی ہے تو  بقیہ ترکے کے ایک تہائی حصے میں وصیت نافذ کرنے کے بعد باقی مال کو  72 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، اس میں سے بیوہ کو  9  حصے، ہر بیٹے کو  14 حصے اور ہر بیٹی کو  7 حصے ملیں گے۔ یعنی  بیوہ کو 662500 روپے، ہر بیٹے کو  1030555.555 روپے اور ہر بیٹی کو  515277.777 روپے ملیں گے۔فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144212202092

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں