بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

تقسیم وراثت کی ایک صورت


سوال

میرے سسر کا انتقال ہو گیا ہے،مرحوم نے دو شادیاں کی تھیں،ان کی پہلی بیوی کا 25 سال قبل انتقال ہوگیا تھا، ورثاء میں شوہر، پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے،اس مرحومہ بیوی کا ایک مکان ہے، اس کا بٹوارہ شریعت کے مطابق کس حساب سے ہوگا؟

میرے سسر جن کا ابھی انتقال ہوا،ان کے ورثاء میں ایک بیوہ(یہ دوسری بیوی ہیں ، جن سے کوئی اولاد نہیں ہے۔)، پانچ بیٹے اور ایک بیٹی(جو کہ پہلی مرحومہ بیوی سےہیں) سب شادی شدہ ہیں،مرحوم کی  ایک بہن بھی ہےجو غیر شادی شدہ ہے،مرحوم کےپیسے پڑے ہیں، اس کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب

اصولی طور پر سائل کے مرحوم سسر کی سگی اور قریبی اولاد کی موجودگی میں مرحوم کی مذکورہ غیرشادی شدہ بہن شرعی ورثاء میں شامل نہیں ہے، نیز پہلے مرحوم کی پچیس سال قبل انتقال کرجانی والی بیوی کا ترکہ تقسیم کیا جائے، بعدازاں اس میں سےمرحوم سسرکا بحیثیت شوہر جو حصہ حاصل ہو،وہ اور ان کا دیگر ترکہ ورثاء میں تقسیم کیاجائے۔

مرحوم سسر کی پہلی بیوی کے ترکہ کی تقسیم:

مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا  شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومہ کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحومہ کے   حقوقِ متقدمہ یعنی مرحومہ کے ذمہ کوئی قرضہ ہو  تو اس  کی ادائیگی اور اگر مرحومہ  نے  کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی  مال  میں سے وصیت کو نافذ کرنے کے بعد باقی  کل ترکہ کو44 حصوں میں تقسیم کرکے11 حصے شوہر کو ، 6 حصے ہر ایک بیٹے اور 3 حصے بیٹی کو ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہوگی :

میت(مرحومہ بیوی):4/ 44

شوہربیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹی
13
11666663

یعنی مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ مکان کی مالیت لگا کر 100 فیصد میں سے 24.999 فیصد شوہر کو (جو کہ ان کے ورثاء میں تقسیم ہوں گے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے)،مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو 13.636 اور بیٹی کو 6.818فیصد رقم ملے گی۔

مرحوم سسر کے ترکہ کی تقسیم :

مرحوم شوہر کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحوم کےحقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے اور اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہوتو اس کی ادائیگی کے بعد ، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو ایک تہائی مال میں سے وصہت نافذ کرنے کے بعد باقی کل ترکہ کو 88  حصوں میں تقسیم کرکے 11 حصے دوسری بیوی کو ، 14 حصے ہر ایک بیٹے اور 7 حصے بیٹی کو ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہوگی:

میت(مرحوم شوہر):8/ 88

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹی
17
1114141414147

یعنی ترکہ کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ مرحوم کے ترکہ کی مالیت لگا کر 100 فیصد میں سے مرحوم کی دوسری بیوی کو 12.500 فیصد ، ہر ایک بیٹے کو15.909 فیصد اور بیٹی کو 7.954 فیصد ملے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل)."

(كتاب الفرائض،فصل في العصبات، ج:6،ص:774، ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144404101616

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں