بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

اسمارٹ کمپنی سے حصص اور کرائے کا معاملہ کرنے کا حکم


سوال

اس مارٹ کمپنی پراپرٹی کےحصص فروخت کر رہی ہے اور اس کے عوض کرایہ دے رہی ہے ؟ کیا یہ حلال ہے؟

تنقیح: حصص کی خرید و فروخت اور کرائے کے معاملہ کی مکمل تفصیل اور اس کمپنی سے ہونے والے معاہدہ کی تفصیل بھیج کر جواب معلوم کریں۔

جواب تنقیح: کمپنی کے ساتھ ہونے والا معاہدہ سوال کے ساتھ لف ہے۔

جواب

سائل کی ارسال کردہ دستاویزات سے مندرجہ ذیل امور معلوم ہوتے ہیں:

۱)  اسمارٹ کمپبی سے سائل نے 8300 اسکوائر فٹ میں سے بائسویں  منزل کا  9.26 اسکوائر فٹ  خریدا ہے۔ یعنی فیصد کے اعتبار سے سائل نے 0.1115 فیصد خریدا ہے۔(منسلکہ کاغذ کے صفحہ نمبر ۱،۵،۶)

۲) معاہدہ کرتے وقت مذکورہ بلڈنگ اور متعلق منزل وجود میں نہیں تھی، بلکہ اسمارٹ کمپنی کو  تعمیر کرنے کی اجازت مل گئی تھی۔معاہدہ میں موجود الفاظ یہ ہیں "The seller has taken permission for construction on below mentioned plot" (منسلکہ کاغذ صفحہ نمبر ۱)

۳) معاہدہ میں یہ مذکور ہے کہ" ایک مخصوص وقت (MATURITY PERIOD) کے بعد کمپنی سائل سے وہ فروخت کردہ حصہ خرید لے گی"(منسلکہ کاغذ  صفحہ نمبر ۳)، یعنی اس مخصوص وقت کے بعد اگر سائل بیچنا چاہے تو کمپنی خریدنے کی پابند ہوگی۔

۴) معاہدہ میں مذکور ہے کہ" کمپنی جب بھی کرائے کا معاملہ ختم کرنا چاہے گی ، ایک ماہ پیشگی بتا کر کرائے کا معاملہ ختم کرسکتی ہے اورکرائے کا معاملہ  ختم کرنے کی صورت میں سائل اگر کمپنی کو ہی حصہ بیچنا چاہے تو کمپنی حصہ دوبارہ خریدنے کی پابند ہوگی"(منسلکہ کاغذ صفحہ نمبر ۳)۔

مذکورہ شق سے  یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مذکورہ کمپنی بیچا ہوا حصہ سائل سے کرائے پر بھی لے گی۔  نیز کمپنی اور سائل کے درمیان الگ سے کرائے داری کا معاہدہ بھی ہوتا ہے(وہ بھی سوال کے ساتھ منسلک ہے)۔

۵)  معاہدہ میں مذکور ہے کہ "سائل اگر اپنے اس حصہ کو ایک متعین وقت سے پہلے بیچنا چاہے تو اس کو اختیار ہوگا ، وہ بازار میں کسی کو بھی فروخت کرسکتا ہے۔ کوئی خریدار نہ ہو تو اسمارٹ کمپنی بھی اپنی صوابدید پر خرید سکتی ہے۔اس صورت میں اسمارت کمپنی سائل سے حصہ خریدنے کی پابند نہیں ہوگی" (منسلکہ کاغذ صفحہ نمبر ۳)۔

۶)معاہدہ میں مذکور ہے کہ" خریدار اس بات کو سمجھتا  ہے اور اس پر راضی ہے کہ اس خریداری سے کبھی بھی خریدے ہوئے حصہ کا قبضہ خریدار کو حاصل نہیں ہوگا بلکہ خریدار کے پاس صرف اس بات کا حق ہوگا کہ مذکورہ حصہ خریدار کے نام پر ہو  اور حصہ کا قبضہ ہمیشہ بیچنے والے کے پاس رہے گا"(منسلکہ کاغذ صفحہ نمبر ۳) ۔

معاہدہ سے حاصل ہونے والی مندرجہ بالا معلومات کے مطابق  مذکورہ  خرید و فروخت کا معاملہ   شرعا بیع باطل ہے کیونکہ سائل کوبائسویں منزل کا جو حصہ فروخت کیا گیا ہے وہ موجود ہی نہیں تھا، لہذا  حاصل ہونے والے منافع (کرایہ یا حصہ بیچنے کی صورت میں نفع ) حلال نہیں ہے۔سائل کو چاہیے کہ اس معاملہ کو فوراً ختم کرے اور جتنی رقم کمپنی کو ادا کی تھی وہ واپس لے لے۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ اگر مذکورہ طریقہ پر معاملہ بائسویں منزل کے وجود میں آنے کے بعد بھی کیا جائے گا تب بھی شرعا یہ خریداری کا معاملہ فاسدہوگا کیونکہ اس معاہدہ میں متعدد شرط فاسدہ ہیں جو اس معاملہ کو فاسد کردیں گی، لہذا اس معاملہ سے حاصل ہونے والے منافع حلال نہیں ہوں گے۔اس معاہدہ میں موجود شرط فاسدہ مندرجہ ذیل ہیں:

الف) خریداری کے بعد کمپنی سائل سے مذکورہ حصہ کرائے پر لے گی اور کرائے کا معاملہ ختم کرنے کی صورت میں سائل سے مذکورہ حصہ خریدنے کی پابند ہوگی۔

ب) ایک مخصوص وقت کے بعد کمپنی سائل سے مذکورہ حصہ دوبارہ خریدنے کی پابند ہوگی۔

ج) سائل کو اپنے حصہ پر کسی صورت قبضہ نہیں ملے گا اور قبضہ کمپنی کے پاس ہی رہے گا، سائل کے صرف نام پر مذکورہ حصہ ہوگا۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومنها في المبيع وهو أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كبيع نتاج النتاج والحمل كذا في البدائع."

(کتاب البیوع، باب اول ، ج نمبر۳، ص نمبر ۲، دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(والمعدوم كبيع حق التعلي) أي علو سقط؛ لأنه معدوم

قوله والمعدوم كبيع حق التعلي) قال في الفتح: وإذا كان السفل لرجل وعلوه لآخر فسقطا أو سقط العلو وحده فباع صاحب العلو علوه لم يجز؛ لأن المبيع حينئذ ليس إلا حق التعلي، وحق التعلي ليس بمال؛ لأن المال عين يمكن إحرازها وإمساكها ولا هو حق متعلق بالمال بل هو حق متعلق بالهواء، وليس الهواء مالا يباع والمبيع لا بد أن يكون أحدهما، بخلاف الشرب حيث يجوز بيعه تبعا للأرض، فلو باعه قبل سقوطه جاز، فإن سقط قبل القبض بطل البيع لهلاك المبيع قبل القبض اهـ."

(کتاب البیوع،  باب البیع الفاسد، ج نمبر ۵، ص نمبر  ۵۲، ایچ ایم سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الشرط شرطا لم يعرف ورود الشرع بجوازه في صورته وهو ليس بمتعارف إن كان لأحد المتعاقدين فيه منفعة أو كان للمعقود عليه منفعة والمعقود عليه من أهل أن يستحق حقا على الغير فالعقد فاسد كذا في الذخيرة.....ولو باع عبدا على أن المشتري متى باعه فالبائع أحق بثمنه فالبيع فاسد كذا في السراج الوهاج.بعت منك هذا الحمار على أنك ما لم تجاوز به هذا النهر فرددته علي أقبله منك وإلا فلا لا يصح وكذا إذا قال ما لم تجاوز به إلى الغد كذا في القنية.ولو اشترى شيئا ليبيعه من البائع فالبيع فاسد ولو اشترى ثمرا ليجذه البائع أو يقرض البائع المشتري ألفا فالبيع فاسد كذا في الخلاصة."

(کتاب البیوع، باب اول ، ج نمبر۳، ص نمبر ۱۳۴، دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100575

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں