بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پگڑی پر دی ہوئی دوکان کو فروخت کرنے کرنے کا حکم


سوال

پگڑی کا کرایہ لینا اور دینا تو نا جائز ہے، اب اگر کوئی مالک اپنے گھر کو اونر شفٹ میں تبدیل کر رہا ہے پگڑی سے ،تو اس صورت میں مالک مکان کچھ پیسے لیتا ہے اونر شفٹ پر مکان کرنے کے لیے ؟  آیا  وہ پیسے لینا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مکان پگڑی پر دینے کی صورت میں پگڑی  پر مکان دینے والا ہی  مکان کا مالک رہتا ہے،مکان پگڑی پر دینے سے اس کی ملکیت ختم نہیں ہوتی ، لہذا پگڑی پر دینے والا مزید رقم لیکر مکان اس کو فروخت کرکے اس کی ملکیت میں دینا درست ہے ۔

فتاویٰ شامی (الدّر المختار وردّالمحتار) میں ہے:

"وشرعا: (مبادلة شيء مرغوب فيه بمثله) خرج غير المرغوب كتراب وميتة ودم على وجه) مفيد. (مخصوص) أي بإيجاب أو تعاط، فخرج التبرع من الجانبين والهبة بشرط العوض، وخرج بمفيد ما لا يفيد... ومحله المال. وحكمه ثبوت الملك.

(قوله: وحكمه ثبوت الملك) أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الأصلي، والتابع وجوب تسليم المبيع والثمن، ووجوب استبراء الجارية على المشتري، وملك الاستمتاع بها، وثبوت الشفعة لو عقارا، وعتق المبيع لو محرما من البائع بحر، وصوابه من المشتري".

(کتاب البیوع، ج:4، ص:506، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101451

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں