بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

عشال نام رکھنا


سوال

میں اپنی بیٹی کا نام عشال رکھنا چاہتا ہوں، مجھے بتائیں کہ  اس کا کیا معنی ہے اور یہ نام رکھنا مناسب ہے یا نہیں ؟

جواب

«عَشَّال» ( "عین" پر زبر اور "ش" پر تشدید کے ساتھ) اور «عَاشِل» کا معنی ہے: "درست اندازہ لگانے والا"۔  یہ مذکر صفت ہے، یہ نام لڑکے کا رکھا جاسکتا ہے ۔ 

«عِشَال» "عین" کے نیچے زیر کے ساتھ عربی لغت میں استعمال نہیں ہوتا،  لہذا بچی کا نام ’’عشال‘‘  کے بجائے کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کے نام پر یا کوئی اچھے معنیٰ والا عربی نام رکھ دیجیے۔   

لسان العرب میں ہے:

"عشل: العَاشِلُ والعاشِنُ والعاكِلُ: المُخَمِّن الَّذِي يَظُنُّ فيُصِيب."

 (فصل العين المهملة، ج:11، ص:448، ط:دارالكتب الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100231

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں