بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ٹیسٹ ٹیوب بے بی سے متعلق ایک اعتراض اور جواب


سوال

آپ کا جواب مجھے موصول ہوا ہے،  جزاکم اللہ خیراً  آپ کے جواب کے اوپر میرا ایک اشکال ہے کہ اس میں آپ نے کہا ہے کہ ہسبینڈ اور وائف مطلب میاں بیوی دونوں یہ عمل سیکھ کر خود کر لے تو جائز ہے، تو ایسا تو ہو نہیں سکتا اس میں فیمیل عورتوں کا سپورٹ لازمی لینا ہوگا،  اس کے بغیر تو ٹیسٹ ٹیو ب بے بی ہو نہیں ہو سکتا ، تو اب میرا سوال یہ ہے کہ جو ڈیلیوری ہوتی ہے عورتوں کی ہاسپٹل میں تو ڈلیوری میں بھی تو اور  فیمیلز ہوتی ہیں مطلب پرائی عورتیں ہوتی ہیں وہ اس کے ساتھ ہوتی ہیں اور وہ ڈلیوری کا پروسیس وہ خود کرتی ہے تو پھر اس کا کیا حکم ہوگا؟ شاید میں اپنی بات آپ کو سمجھا چکا ہوں۔

جواب

واضح رہے کہ ڈیلیوری کرنا یہ بنیادی ضروریات میں سے ہے،  اور ضرورتِ شرعیہ کے موقع پر بقدرِ ضرورت ستر کھولنے کی اجازت ہے، جب کہ آئی۔وی۔ایف(ٹیسٹ ٹیوب بیبی  کا عمل)کرنا کوئی ضروری نہیں؛  کیوں کہ اولاً تو حصول اولاد ان ضروریات میں سے نہیں جن کے بغیر زندگی نہ گزاری جا سکے،  دوم یہ کہ اللہ تعالی نے مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت دی ہے ، لہذا اگر ایک عورت کے اندر بچہ نہ پیدا کرنے کی بیماری  ہو تو دوسری شادی کرکے اس مسئلے کا متبادل حل موجود ہے ، برخلاف ڈیلیوری کے ۔

باقی جہاں تک  ڈیلیوری  میں پرائی عورتوں  اور ان کے سامنے شرم گاہ کے کھولنے کی بات ہے  تو اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ خاتون ڈاکٹر کے لیے ضرورت کے تحت  ستر کو دیکھنے کی اگر چہ  گنجائش ہے،  لیکن اس میں بھی خاتون ڈاکٹر کے سامنےبقدر ضرورت ستر کھولنے کی اجازت ہے اور خاتون ڈاکٹر کے لیے بھی  ضروری ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ جسم کی طر ف نہ دیکھے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويجوز النظر إلى الفرج للخاتن وللقابلة وللطبيب عند المعالجة ويغض بصره ما استطاع، كذا في السراجية. ... امرأة أصابتها قرحة في موضع لايحل للرجل أن ينظر إليه لايحل أن ينظر إليها لكن تعلم امرأة تداويها، فإن لم يجدوا امرأة تداويها، ولا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت وخيف عليها البلاء أو الوجع أو الهلاك، فإنه يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع، ولا فرق في هذا بين ذوات المحارم وغيرهن؛ لأن النظر إلى العورة لايحل بسبب المحرمية، كذا في فتاوى قاضي خان".

(كتاب الكراهية ، الباب الثامن فيما يحل للرجل النظر إليه وما لا يحل له ج: 5 ص: 330 ط: دار الفکر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولا يجوز لها أن تنظر ما بين سرتها إلى الركبة إلا عند الضرورة بأن كانت قابلة فلا بأس لها أن تنظر إلى الفرج عند الولادة. وكذا لا بأس أن تنظر إليه لمعرفة البكارة في امرأة العنين والجارية المشتراة على شرط البكارة إذا اختصما وكذا إذا كان بها جرح أو قرح في موضع ‌لا ‌يحل ‌للرجال ‌النظر إليه فلا بأس أن تداويها إذا علمت المداواة فإن لم تعلم تتعلم ثم تداويها فإن لم توجد امرأة تعلم المداواة ولا امرأة تتعلم وخيف عليها الهلاك أو بلاء أو وجع لا تحتمله يداويها الرجل لكن لا يكشف منها إلا موضع الجرح ويغض بصره ما استطاع لأن الحرمات الشرعية جاز أن يسقط اعتبارها شرعا لمكان الضرورة كحرمة الميتة وشرب الخمر حالة المخمصة والإكراه لكن الثابت بالضرورة لا يعدو موضع الضرورة لأن علة ثبوتها الضرورة والحكم لا يزيد على قدر العلة هذا الذي ذكرنا حكم النظر والمس."

(كتاب الاستحسان ج: 5 ص: 124 ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505101398

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں