بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مشاع زمین کے وقف کا حکم


سوال

میری والدہ کے تین بھائی ہیں ،ان میں سے ایک کا انتقال ہو گیا ہے ،ان کی پراپرٹی  بھائی بہنوں میں شرعی حساب سے تقسیم ہوئی ، پھر اس پراپرٹی کو میری والدہ اور ان کے چھوٹے بھائی نے مدرسے کے نام ہبہ کر دی ،ابھی مسجد کے بالکل قریب میں ہی ایک زمین بِک رہی ہے ،مسجد کے صدر صاحب اور سیکٹری صاحب کا کہنا ہے کہ آپ لوگ ہبہ والی زمین بیچ کر اس کے پیسے ہمیں دے دیں تاکہ اس قریبی زمین کو خرید لیں ،کچھ دن پہلے چھوٹے والے بھائی کا بھی انتقال ہو گیا ہے ،پس کیا ہبہ کی ہوئی زمین کے بدلے مسجد کے قریبی زمین لے کر مدرسے کو دے سکتے ہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں پراپرٹی میں والدہ اور چھوٹے بھائی کاحصہ مدرسے کے لیے وقف ہو گیا ہے ،پس اس کو مدرسے کے مصالح کے لیے ہی استعمال کیا جائے ۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويفرز)فلا يجوز وقف مشاع يقسم خلافا للثاني (قوله: ويفرز) أي بالقسمة وهذا الشرط وإن كان مفرعا على اشتراط القبض؛ لأن القسمة من تمامه إلا أنه نص عليه إيضاحا وأبو يوسف لما لم يشترط التسليم أجاز وقف المشاع، والخلاف فيما يقبل القسمة، أما ما لا يقبلها كالحمام والبئر والرحى فيجوز اتفاقا إلا في المسجد والمقبرة لأن بقاء الشركة يمنع الخلوص لله تعالى نهر وفتح."

(کتاب الوقف،ج:4،ص:352،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"واختلف الترجيح، والأخذ بقول الثاني أحوط وأسهل بحر وفي الدرر وصدر الشريعة وبه يفتى وأقره المصنف (قوله: واختلف الترجيح) مع التصريح في كل منهما بأن الفتوى عليه لكن في الفتح أن قول أبي يوسف أوجه عند المحققين."

(کتاب الوقف،ج:4،ص:352،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)."

(کتاب الوقف،ج:4،ص:352،ط،:سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"مشترک جائیدادوں میں سے جس کا دل چاہے اپنا حصہ فروخت کردے یا وقف کردے، کسی شریک کو اعتراض کا حق نہیں،وقف تام اور لازم ہوجانے کے بعد اس کو توڑا نہیں جاسکتا۔"

(کتاب الوقف،ج:14،ص:245،ط:مکتبہ فاروقیہ)

کفایت المفتی میں ہے:

" جو زمین کہ مسجد کے سوا اور کسی غرض مثلاً مدرسہ کے لئے وقف ہو اس پر مسجد بنانا جائز نہیں ہے۔"

(کتاب الوقف،ج:7،ص:59،ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505100503

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں