بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

اذان، اقامت اور کلمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آنے پر درود پڑھنا


سوال

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آئے اور وہاں دُرود نہیں پڑھا جاتا، کیا کوئی ایسی جگہ ہے؟ تکبیر میں ،  جیسے میں نے سنا کہ کلمہ پڑھتے وقت،  اذان میں۔

جواب

اذان و اقامت کے جواب میں وہی الفاظ کہنا  مستحب ہیں جو مؤذن کہتا ہے،  سوائے"حي على الصلاة" اور  "حي على الفلاح"، اس کے  جواب میں  "لا حول ولا قوة إلا باللّٰه" اور اقامت میں  "قد قامت الصلاة"  کے جواب میں   "أقامها اللّٰه وأدامها " کہنا مستحب ہے۔ لہذا اذان یا اقامت میں ’’أشهد أنّ محمّدًا رسول اللّٰه‘‘  کے  جواب  میں  درود  شریف پڑھنا مستحب نہیں ہے،  البتہ اگر کوئی درود شریف  پڑھتا ہے تو   گناہ گار نہیں ہوگا، اسی طرح کلمہ طیبہ کے الفاظ صرف  "لا إلٰه إلا اللّٰه محمد رسول اللّٰه"  ہیں، صلی اللہ علیہ وسلم کلمہ طیبہ کا جز نہیں ہے ، لہذا کلمہ طیّبہ کے ساتھ درود یعنی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہنا چاہیے، تاکہ کوئی درود کو کلمہ کا جز نہ سمجھ لے۔ اسی طرح نماز میں  تلاوت کے دوران رسول اللہ ﷺ کا نام مبارک پڑھنے یا سننے پر درود نہیں پڑھا جائے گا، اور خطبہ جمعہ کے دوران نامِ مبارک سن کر دل میں درود پڑھنے کی اجازت ہے، زبان سے نہ پڑھاجائے۔  اس کے علاوہ جب بھی اللہ کے رسول ﷺ  کا نام لیا جائے ایک بار درود پڑھنا واجب ہے،  البتہ بعض مواقع ایسے ہیں جن میں درود نہ پڑھنے  کی گنجائش ہے، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل لنک میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے:

درود شریف کے بعض احکام، آداب اور فضائل

كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال میں ہے:

"لما خلق الله جنة عدن وهي أول ما خلق  الله قال لها تكلمي قالت لا إله إلا الله محمد رسول الله قد أفلح المؤمنون قد أفلح من دخل في وشقي من دخل النار."

(حرف الهمزۃ، الفصل الثالث في فضل الإيمان والإسلام، الفرع الأول في فضل الشهادتين، ج:1، ص:55، ط:مؤسسة الرسالة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(بأن يقول) بلسانه (كمقالته) إن سمع المسنون منه، وهو ما كان عربياً لا لحن فيه، ولو تكرر أجاب الأول (إلا في الحيعلتين) فيحوقل (وفي الصلاة خير من النوم) فيقول: صدقت وبررت. ويندب القيام عند سماع الأذان بزازية، ولم يذكر  هل يستمر إلى فراغه أو يجلس، ولو لم يجبه حتى فرغ لم أره. وينبغي تداركه إن قصر الفصل، ويدعو عند فراغه بالوسيلة لرسول الله صلى الله عليه وسلم.

(قوله: ويدعو إلخ) أي بعد أن يصلي على النبي صلى الله عليه وسلم لما رواه مسلم وغيره: «إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا علي، فإنه من صلى علي صلاةً صلى الله عليه بها عشراً، ثم سلوا لي الوسيلة فإنها منزلة في الجنة لا تنبغي إلا لعبد مؤمن من عباد الله، وأرجو أن أكون أنا هو، فمن سأل الله لي الوسيلة حلت له الشفاعة»". وروى البخاري وغيره: «من قال حين يسمع النداء: اللّٰهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة، آت محمداً الوسيلة والفضيلة، وابعثه مقاماً محموداً الذي وعدته، حلت له شفاعتي يوم القيامة». وزاد البيهقي في آخره: «إنك لا تخلف الميعاد». وتمامه في الإمداد والفتح. قال ابن حجر في شرح المنهاج: وزيادة "والدرجة الرفيعة"، وختمه بـ "يا أرحم الراحمين"، لا أصل لهما."

(ج:1، ص:397، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(و يجيب الإقامة) ندبًا إجماعًا (كالأذان) و يقول عند: قد قامت الصلاة: أقامها الله و أدامها."

(کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج: 1، صفحہ: 400، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503103038

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں