بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ اور چار بیٹیوں کے درمیان میراث کی تقسیم کا طریقہ


سوال

میرے ایک رشتہ دار ہیں، جن کی کل چار بیٹیاں، اور   ایک بیوہ ہے۔ وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے مرحوم رشتہ دار  کے صرف یہی مذکورہ ورثاء ہیں، تو اس صورت میں ان کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ترکہ سے میت کی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر میت پر کوئی قرضہ ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد،اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ سے ادا کرنے کے بعد ،باقی کل ترکہ (منقولہ و غیر منقولہ ) کو  32  حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم رشتہ دار کی بیوہ کو  4 حصے، اور اس کی ہر ایک بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم اس طرح ہوگی:

میت(مرحوم رشتہ دار)، مسئلہ: 24                                 رد : 8 / 32

بیوہبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
34444
17
47777

یعنی 100 روپے میں سے مرحوم رشتہ دار کی بیوہ کو12.5 روپےاور اس کی ہر ایک بیٹی کو 21.875 روپے ملیں گے۔

نوٹ:واضح رہے کہ مذکورہ تقسیم اس صورت میں ہے کہ اگر مرحوم کے صرف یہی ورثاء حیات ہوں ،جو سائل نے ذکر کیے ہیں ،اگر اس کے علاوہ (ماں،باپ یا بہن بھائی) میں سے کوئی وارث ہو ،تو اس کی وضاحت کر کے دار الافتاء سے دوبارہ رجوع کرلیا جائے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501101030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں