بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر سے پیسے لے کر زکوۃ ادا کرنا


سوال

میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے، میرے پاس جائیداد اور سونا ہے، لیکن کیش نہیں ہے۔ اب زکوۃ کیا سونا بیچ کے نکالوں یا شوہر سے پیسے مانگ لوں؟ شوہر بھی میرے صاحب حیثیت ہیں، اگر شوہر مجھے زکوۃکے پیسے دینا چاہیں تو اس میں کوئی شرعی ممانعت تو نہیں ہے ؟یا میں اپنا سونا بیچ کر اپنی جائیداد کی زکوۃ نکالوں؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائلہ اگر صاحب نصاب ہے تو زکات کی ادائیگی سائلہ پرلازم ہے ،اور اگر بیوی زکات کی رقم شوہر سے لے کر ادا کرے تو بھی زکات ادا ہوجائے گی یا شوہر بیوی کی اجازت سے اس کی زکات کی رقم ادا کردے تب بھی زکات ادا ہوجائےگی اور اگر سائلہ سونا بیچ کر زکات ادا کرے تو بھی زکات ادا ہوجائے گی۔

فتح القدیر میں ہے:

"الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول."

(کتاب الزکوۃ جلد 2 ص: 153 ط: دارالفکر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز."

(کتاب الزکوۃ , الباب الاول فی تفسیر الزکوۃ و صفتها و شرائطها جلد 1 ص:171 ط:دارالکفر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144408102344

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں