بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

نا محرم سے گفتگو کرنے اور خیالات وغیرہ سے مادے کے اخراج پر غسل کا حکم


سوال

ایک بندہ جنسی کمزوری کا شکار ہے، نامحرم سےگفتگو کرنے،بعض دفعہ چھونے اور خیا لات سے بھی مادہ کا اخراج ہوجاتا ہے ،اوردن میں کئی دفعہ بھی ہوجاتاہے،کبھی شہوت کے ساتھ اور کبھی بغیر شہوت کے،یہ بیماری یا مجبوری ہے وہ آدمی  لباس تبدیل کر کے اور جسم پاک کر کے نمازاداکرتا ہے،ایسی صورت میں کیا اس شخص پر غسل فرض ہے ؟ کیا اسکی نماز درست ہوگئی۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرسائل کو نامحرم سے گفتگو کرنے یا خیالات کی وجہ سے مادہ خارج ہوتا ہےاگر وہ مادہ لذت کے ساتھ کود کر خارج ہوتا ہے جس کے بعد شہوت ماند پڑ جاتی ہو تو اس صورت میں غسل واجب ہوجائےگا،اور اگر بغیر کود کے محض شہوت کے ساتھ یا بغیر شہوت کے مادہ کا اخراج ہو تو ایسی صورت میں غسل تو فرض نہ ہوگا البتہ وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز ودیگر عبادات کے لیے وضو کرنا ضروری ہوگا،اور عضو مخصوص سے جس مادہ کا بھی اخراج ہو،اگر وہ کپڑے یا بدن پر لگ جائے تو اس کا کپڑے اور بدن کا پاک کرنا ضروری ہوگا،پاک کیے بغیر اسی حالت میں نماز پڑھنے سے نماز ادا نہ ہوگی۔

نیز سائل کو چاہیے کہ نامحرم سے گفتگو کرنے اور اس کو چھونے سے اجتناب کرے،اس لیےکہ مرد کے لیے کسی بھی نامحرم عورت  سے بلاضرروت گفتگو، ہنسی مذاق اوربے تکلفی کرنا جائز نہیں،اور شہوانی گفتگو کرنا تو اور برا ہے،  نیز یہ عمل سخت فتنہ کاموجب ہے،رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نا محرم خواتین کو چھونے پر  بھی شدید وعید سنائی ہے، جیساکہ ایک حدیث مبارک میں بروایت حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان منقول ہے:

"اپنے سر کو لوہے کے کنگن سے زخمی کرنا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ نا محرم خاتون کو چھوئے"۔

معجم طبرانی میں ہے:

"عن معقل بن يسار رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لأن يُطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمسّ امرأة لاتحلّ له." رواه الطبراني". 

(باب المیم،211/20،ط:مکتبہ ابن تیمیہ)

مراقي الفلاح مع الطحطاوی میں ہے:

"المني" وهو ماء أبيض ثخين ينكسر الذكر بخروجه يشبه رائحة الطلع ومني المرأة رقيق أصفر. وفي الطحطاوي علي المراقي: قوله: "يشبه رائحة الطلع" أي عند خروجه ورائحة البيض عند يبسه". ( "فصل ما يوجب" أي يلزم "الاغتسال."

(كتاب الطھارۃ،باب مایوجب الاغتسال،ص:96،ط:دارالکتب العلمیۃ)

وفیہ ایضاً:

"منها مذي.... وهو ماء أبيض رقيق يخرج عند شهوة لا بشهوة ولا دفق ولا يعقبه فتور وربما لا يحس بخروجه وهو أغلب في النساء من الرجال.ويسمى في جانب النساء قذى بفتح القاف والدال المعجمة. "و" منها "ودي" بإسكان الدال المهملة وتخفيف الياء وهو ماء أبيض كدر ثخين لا رائحة له يعقب البول وقد يسبقه أجمع العلماء على أنه لايجب الغسل بخروج المذي والودي."

(كتاب الطھارۃ،فصل عشرۃ اشیاء لایغتسل،ص:100،101،ط:دارالکتب العلمیۃ)

فتاوی شامی میں ہے:

"( وعفا ) الشارع ( عن قدر درهم ) وإن كره تحريماً، فيجب غسله وما دونه تنزيهاً فيسن، وفوقه مبطل ( وهو مثقال ) عشرون قيراطاً ( في ) نجس ( كثيف ) له جرم ( وعرض مقعر الكف ) وهو داخل مفاصل أصابع اليد ( في رقيق من مغلظة كعذرة ) آدمي وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ".

(کتاب الطھارۃ،باب الانجاس،316/1،ط:سعید)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405100670

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں