بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

الفاظ کفریہ پر مشتمل گانا گانا


سوال

 ایک گانا ہے جو موبائل پر میں نے کتنی دفعہ سنا ہے تو زبان پر چڑھ گیا، یہ گانا اردو میں بھی ہے اور کوئی انڈیا کی کوئی زبان سے بھی ہے تو مجھے صحیح سمجھ میں نہیں آئی، لیکن میں نے اس کا پھر بھی مطلب دیکھا تو مجھے خطرناک لگا تو اس کا بتا دیں گے اس کا کیا مطلب ہے،یہ کفریہ الفاظ میں آتا ہے يا نہیں، وہ گانا یہ ہے : Teri Jhalak Asharfi Srivalli تقریباً اتنا ہی میرے زبان پر چڑھ گیا تھا اور اس جملہ کا کیا مطلب بنتا ہے ؟ اور اس کا بتا دیں  ،  اس کا مطلب مجھے بالکل ہی نہیں پتا تھا کہ سری والی کا کیا مطلب ہوتا ہے میں نے کبھی سنا بھی نہیں تھا۔ اور میں شادی شدہ بھی  ہوں؟

جواب

فساق و فجارکے اشعار پڑھنے سے احتراز کیا جائے، تاہم  مذکورہ جملے سے نکاح ختم نہ ہوگا۔

البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے :

"وفي الخلاصة وغيرها إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنع التكفير فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل حينئذ وفي التتارخانية لا يكفر بالمحتمل لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية اهـ.

والحاصل أن من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به قاضي خان في فتاويه ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف والذي تحرر أنه لا يفتى بتكفير مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير بها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منها."

(کتاب السیر،باب احکام المرتدین،ج5،ص134،المکتب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100973

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں