بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

سرمایہ کاری کی رقم میں کچھ فیصد نفع متعین کرنے کا حکم


سوال

میں نے اپنے کزن کو ایک رقم دی کہ ان کے کوئی جاننے والے ہیں، وہ کاروبار کرتے ہیں  پراپرٹی کا، ان کے کاروبار میں پیسے لگا لے۔ اب مجھے ماہانہ نفع ملتا ہے۔ ایک سال کا معاہدہ ہے۔ کیا ایسے معاملہ کرنا جائز ہے؟

وضاحت : وہ مختلف لوگوں کے پیسے اپنے کاروبار میں لگاتے ہیں اور کاروبار کو بڑھاتے ہیں۔ معاہدہ یوں ہوتا ہے کہ ایک لاکھ کی سرمایہ کاری پر 5 فیصد نفع ملے گا لیکن ٹیکس وغیرہ کٹ کر یہ نفع تقریباً 4600 روپے بنتا ہے۔ کسی مہینے اس سے اوپر نیچے بھی ہوجاتا ہے۔ میرے کزن نے مجھے یقین دہانی کروائی ہے کہ پراپرٹی کے کام میں ہی لگاتے ہیں وہ۔ ایک سال کا معاہدہ ہے اور چھ ماہ ہو چکے ہیں۔

جواب

واضح ہو کہ سرمایہ کی رقم  سے کچھ فیصد طے کر کے سرمایہ کار کو نفع دینے کا معاہدہ جائز نہیں ہے بلکہ سرمایہ کاری کرنے کے بعد جو نفع حاصل ہو، اس نفع  میں سے سرمایہ کار کے لیے کچھ فیصد مثلاً  5 فیصد نفع طے کرنا جائز ہے۔

صورت مسئولہ میں آپ کو آپ کی سرمایہ کاری کا جو نفع مل رہا ہے، یہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ آپ کو صرف اپنی سرمایہ کاری کی رقم واپس لینے کی اجازت ہے مثلاً اگر آپ نے ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے اور اب تک پچیس ہزار روپے نفع کی مد میں لے چکے ہیں تو آئندہ آپ کے لیے پچتر ہزار روپے وصول کرنا جائز ہوگا، نفع کے نام پر  رقم وصول کرنا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے،  کیونکہ آپ کا معاہدہ شرعی طور پر درست نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية" میں ہے:

«وأن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولًا تفسد الشركة وأن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة لا معينًا فإن عينا عشرةً أو مائةً أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً، كذا في البدائع.»

(کتاب الشرکۃ باب اول ج نمبر ۲ ص نمبر ۳۰۲،دار الفکر) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401100742

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں