بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بھائی کی جانب سے بہن کو ترکہ کے بعض حصہ سے محروم کرنے کی صورت میں بقیہ ترکہ میں بہن کا بھائی کو حصہ نہ دینے کا حکم


سوال

ہم چار بہن بھائی ہیں (تین بہنیں اور ایک بھائی شادی شدہ اور ایک بہن غیر شادی شدہ) ، والدہ گھریلو خاتون ہیں. والد صاحب کا انتقال 2016 میں ہوا ، والدہ حیات ہیں،والد صاحب کے والدین پہلے ہی وفات پاگئے ہیں،والد صاحب کا ذاتی کاروبار تھا، انہوں نے اپنی زندگی میں دو فلیٹ انسٹالمنٹ پر (یعنی ڈاؤن پیمنٹ ادا کرکے فلیٹ اپنے نام پر لیے اور بقیہ رقم کے لیے قسطوں میں ادائیگی کرتے رہے)خریدے تھے، چونکہ یہ دو فلیٹ پاکستان سے باہر تھے اور والدصاحب  پاکستان میں رہائش پذیر تھے ،اس لیے قسطوں کی ادائیگی اور دیگر معاملات کے لئے والد صاحب نے دبئی میں ہی رہائش پذیر ایک شخص (ایجنٹ) کو پاور آف اٹارنی دے دی، تاکہ فلیٹ کے معاملات میں آسانی ہو اور انہیں کرایہ پر چڑھایا جاسکے ، اپنے انتقال سے دو ماہ پہلے والد صاحب نے والدہ کو زبانی بتایا کہ دونوں فلیٹوں کی تمام بقیہ اقساط کی ادائیگی مکمل ہوگئی ہیں، صاحب کے انتقال کے بعد جب وراثت کی تقسیم کا معاملہ آیا اور اس شخص سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی جس کے پاس فلیٹوں کی دیکھ بھال کے لئے پاور آف اٹارنی تھی ، تواس نے بتایا کہ دونوں فلیٹوں کی چار چار اقساط ابھی باقی ہیں جوکہ ادا کرنی ہیں،کیونکہ وہ دونوں فلیٹ والد کی حیات میں ہی کرائے پر چڑھائے گئے تھے اس لیے اس شخص نے کہا کہ وہ یہ بقیہ اقساط فلیٹ کے کرایہ میں سے ادا کرتا رہے گا، 2016 کے بعد اس شخص سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ آیا قسطیں ادا ہوئیں کہ نہیں؟ لیکن اس دوران یعنی 2016 سے 2018 تک اس نے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا ، ایک شادی شدہ بہن نے معاملہ سلجھانےکی غرض سے کسی طریقے سے دبئی جاکرسرکاری ریکارڈ کے ذریعے پتہ کروایا تو پتہ چلا کہ کوئی کرایہ والد صاحب کے بینک اکاؤنٹ میں نہیں جمع کروایا گیا،بلکہ اس کرایہ میں سے جو رقم قسطوں کی ادائیگی کے لیے ضرورت تھی وہ رقم بھی اقساط کی صورت میں سرکاری دفتر میں جمع نہیں کروائی گئی، یعنی والد صاحب کے انتقال کے بعد اس شخص نے نہ فلیٹوں کا کرایہ وارثین کو منتقل کیا، نہ فلیٹ کی اقساط سرکاری دفتر جمع کروائیں اور نہ ہی فلیٹوں کا قبضہ وارثین کو واپس دیا،اس شادی شدہ بہن نے معاملات سنبھالنے کے لئے (یعنی اس فلیٹ کے کرایہ کی وصولی , بقیہ قسطوں کی ادائیگی اور فلیٹوں کے قبضے کی معلومات لینے کے لئے ) تمام وارثین سے اجازت لی تاکہ وہ یہ معاملہ حل کرے،سب نے اجازت دی اور تمام وارثین نے اپنی مرضی سے اس بہن کو پاور آف اٹارنی بھی دے دی، اس بہن نے دبئی میں سرکاری اور دفتری امور کے مطابق کاغذی کاروائی کرتے ہوئے فلیٹوں کی بقیہ اقساط کی ادائیگی کردیں تاکہ والد صاحب کے نام پر دونوں فلیٹوں کی مکمل کاروائی ہوسکے، یاد رہے کہ اس بہن نے قسطوں کی ادائیگی کے لئے کسی سے قرض حسنہ لیا اور پھر ادائیگی کی تھی،  یہ قرض اس بہن نے کسی بھائی یا والدہ اور بہنوں میں سے  کسی سےنہیں لیا کیوں کہ یہ رقم نہ تو والدہ اور بہنوں کے پاس تھی اور نہ ہی بھائی نے اس رقم کے بندوبست کے لئے کوئی مدد کی اور نہ ہی دلچسپی ظاہر کی تھی، یعنی مذکورہ بہن کو ہی تمام اخراجات برداشت کرنے پڑے تاکہ فلیٹوں کا معاملہ حل ہوسکے، ان اخراجات میں قسطوں کی ادائیگی، دبئی آنے جانے کے اخراجات ، سرکاری دفاتراور وکیلوں کی فیس وغیرہ شامل ہیں، دونوں فلیٹوں کی اقساط کی ادائیگی کے بعد دبئی سرکاری انتظامیہ نے دونوں فلیٹوں کے کاغذات مرحوم والد صاحب کے نام کردیے ،والد صاحب کے انتقال کی صورت میں،اس کارروائی کے دوران دونوں فلیٹ سکسیشن پروسیس کے تحت اس بہن کے نام ہو گئے۔

فلیٹوں کی سکسیشن کا معاملہ حل ہونے کے دوران ہمارے بھائی نے مذکورہ بہن سے قطع تعلق کر لیا اور والد صاحب کی باقی وراثت کے معاملات میں کسی بہن یا والدہ کو اعتماد میں نہیں لیا اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی سے کوئی بات کی،اور اپنے زیرِتصرف والد صاحب کا ترکہ تقسیم کردیا ،اوردبئی کا معاملہ حل کرنے والی مذکورہ بہن کو اس کے حصہ سے محروم رکھاالبتہ باقی دونوں بہنوں اور والدہ کو والد کی وراثت میں سے کچھ حصہ دے دیا ،(جوکہ ان دونوں فلیٹوں میں سے ایک فلیٹ کی قیمت فروخت کے برابر ہے ) چونکہ بھائی نے وراثت کے معاملے میں وارثین کو دور رکھا، اس لئے بہن نے اپنا فرض سمجھتے ہوئے اور اس شک کی بناپرکہ بھائی مزید کوئی زیادتی نہ کرے ، مذکورہ دونوں فلیٹوں  کا معاملہ خود حل کرنے کی کوشش کی ،اور یہ غرض بھی تھی کہ ان فلیٹوں میں سے اپنی بہنوں اور والدہ کو جو جائز حصہ ہے وہ دے دیا جائے یا پھر انہیں کرائے پر چڑھایا جائے تاکہ سب بہنوں اور والدہ کو اس میں سے حصہ ملتا رہے ،یاد رہے کہ والد صاحب کی وراثت میں کافی کچھ ہے جن کی اندازاً مجموعی مالیت ان دونوں کی فلیٹوں کی قیمتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ لہذا اس مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں چند امور کی بابت شرعی راہ نمائی درکار ہے:

1: چونکہ بھائی نے اس بہن کو کوئی حصہ نہیں دیا تو کیا یہ بہن کسی ایک فلیٹ کی مالک بن سکتی ہے جبکہ بھائی نے اس دوران باقی دونوں بہنوں اور والدہ کو والد کی وراثت میں سے کچھ حصہ دے دیا جوکہ ان دونوں فلیٹوں میں سے ایک فلیٹ کی قیمت فروخت کے برابر ہے؟

2:کیا یہ بہن فلیٹ کا کرایہ سب کی رضامندی کے ساتھ والدہ اور دونوں بہنوں کو دے سکتی ہے (لیکن اس رضامندی میں بھائی کی رضامندی شامل نہیں) کیا اس بہن کا اپنی والدہ اور بہنوں کو اس فلیٹ کے کرائے یا اس کی فروخت میں سے حصہ دینا جائز ہے ؟

3: کیا مذکورہ بہن جس کو کوئی حصہ نہیں ملا خود اپنے آپ کومالک سمجھ کر اس کا کرایہ یا اس کی قیمتِ فروخت جس وارث کو دینا چاہے دے سکتی ہے خاص طور پر اپنی والدہ اور بہنوں کو ؟

4: کیا یہ بہن اپنے بھائی کو (کرائے یا فلیٹوں کی فروخت میں سے جو حصہ ملے) اگر کچھ نہ دے تو  گناہگار ہوگی ؟خاص طور پر اس صورت میں کہ بھائی نے اس بہن کو اپنے زیرِتصرف ترکہ میں سے کوئی حصہ نہیں دیا اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ والد کی بقیہ وراثت میں سے جو بھی والدہ اور بہنوں کواس بھائی نے دیا وہ  اس سے بہت کم ہے جوان کا جائز حق بنتاہے۔

جواب

1:واضح رہے کہ والدین کے ترکہ میں  نرینہ اولاد کی طرح بیٹیوں کا بھی شرعی حق اور حصہ ہوتا ہے، والدین کے انتقال کے بعد ان کے کل یا بعض ترکہ پربھائی کا قبضہ کرکے اپنے طور پرتقسیم کرنا اور بہنوں یا کسی وارث کو  ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا ناجائز اور گناہ ِ کبیرہ ہے، ہر ایک وارث  کو اس کا حق اور  حصہ  اس دنیا میں دینا لازم اور ضروری ہے، ورنہ آخرت میں بدترین عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا ،احادیثِ مبارکہ  میں اس بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں،لہذا والد ِمرحوم کے کل ترکہ کو یکجا کرکے نئے سرے سےتمام ورثاء کے درمیان شرعی طریقے سے تقسیم کرلیا جائے،مرحوم کامذکورہ اکلوتا بیٹا جس قدر میراث تقسیم کرچکا ہے اس میں مرحوم کی بیوہ، بیٹیوں بالخصوص دبئی کا معاملہ حل کرنے والی بیٹی کا جس قدر شرعی حصہ بنتا ہے وہ انہیں ادا کردے،بصورتِ دیگر مذکورہ بہن والدمرحوم کے کل ترکہ کی مالیت کے حساب سے اپنے حصہ کے بقدرہی فلیٹ کی مالک بن سکتی ہے۔

صورت مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحوم کے   حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے اور اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو  تو اس  کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے  کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی  مال  میں سے وصیت کو نافذ کرنے کے بعد باقی  کل ترکہ کو 40 حصوں میں تقسیم کرکے 5 حصے مرحوم کی بیوہ کو،14 حصے مرحوم کے بیٹے کو،7حصے مرحوم  ہر ایک بیٹی کوملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہوگی:

میت(والد)8 / 40

بیوہبیٹابیٹیبیٹیبیٹی
17
514777

ترکہ کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ والد مرحوم کے کل ترکہ کی مالیت لگا کر12.5 فیصد مرحوم کی بیوہ کو،35 فیصد مرحوم کے بیٹے کو17.5 فیصد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

2- 3:واضح رہے میت کا ترکہ تمام ورثاء کا مشترکہ ہوتا ہے،اور اس میں ہر ایک وارث اپنے حصہ میں تصرف کرنے کا حق دار ہوتاہے، لہذازیر نظرمسئلہ میں مذکورہ بہن کا دبئی کے مذکورہ فلیٹوں میں جتنا شرعی حق وحصہ اس کا بنتا ہےاس میں کرایہ پر دینے ،فروخت کرنے اور اس کرایہ کی رقم  کے حوالے سےہر طرح کاتصرف کرسکتی ہے،اسی طرح والدہ اور دیگر بہنوں کا  شریعت کے مطابق جتنا حصہ بنتا ہےوہ ان کی اجازت و رضامندی سے ان میں  تصرف کرسکتی ہیں،اور مذکورہ بہن ان کی رضامندی سے کرایہ پر دے کر انہیں کرایہ کی رقم مہیا کرسکتی ہے۔

4:مذکورہ بھائی کا اگر فلیٹوں میں شرعی طور پر حق و حصہ بنتا ہو تو بہن اس کی عدمِ ادائیگی کی صورت میں گناہ گار ہوگی، کیونکہ مذکورہ بہن اپنے بھائی کاحصہ غصب کرنے والی کہلائے گی، البتہ اگر بھائی نے والد صاحب کے بقیہ مال میراث میں سےجو حصہ لیا ہے،اگر یقینی طور پر ثابت ہوجائے کہ اس کی مالیت  زیادہ تھی اور اس کی بنیاد پر بھائی کا فلیٹوں میں حصہ نہ بن رہا ہو، تو اس صورت میں بہن پر اپنےبھائی کو کچھ دینا لازم نہیں ہو گا ۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".

(مشكاة المصابيح،باب الغصب والعاریة 254/1 ط: قدیمی)

ترجمہ: حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی۔

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة»، رواه ابن ماجه".

(باب الوصایا، الفصل الثالث 1 / 266  ط: قدیمی)

ترجمہ :حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا، (یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔

تکملۃ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:   

" الإرث جبري لَايسْقط بالإسقاط".

(كتاب الدعوى ،ج:7 ، ص:505 ، ط :ايچ ايم سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولا سبيل إلى ‌التصرف ‌في ‌الملك المشترك والحق المشترك إلا برضا الشركاء."

(كتاب الشرب، ج:6، ص:190، ط:دار الكتب العلمية)

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"لا يجوز ‌التصرف ‌في ‌الملك ‌المشترك بلا إذن الشريك...

وكون أحد الشريكين في شركة الملك أجنبيا في حصة الآخر هو في التصرف المضر أما في التصرف غير المضر كالسكنى مثلا في الدار المشتركة وفي الأحوال التي تعد من توابع السكنى كالدخول والخروج والصعود إلى السطح (الطحطاوي) فيعتبر كل منهما صاحب ملك مخصوص على وجه الكمال."

(الكتاب العاشر الشركات، الباب الثاني، ج:3، ص:30، ط:دار الجيل)

فتاوی شامی میں ہے:

"لا يجوز لأحد من المسلمين ‌أخذ ‌مال ‌أحد بغير سبب شرعي."

( كتاب الحدود، باب التعزيز، ج:4، ص:61، ط: ايچ ايم سعيد)

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"‌كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه ‌المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير."

(الكتاب العاشر الشركات، الباب الثالث، ج:3، ص:201، ط:دار الجيل)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311101945

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں