بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کس علاقے میں واجب ہے؟


سوال

 ہمارے علاقہ میں ایک مسجد ہے، جس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے،بعض کہتے ہیں کہ اس میں نماز جمعہ نہیں ہے اور بعض ہونے کے قائل ہیں۔

ہمارے علاقے کی تفصیل کچھ اسی طرح ہے کہ روڈ ،بجلی،ہسپتال،لوہار کی  سہولیات نہیں ہیں،پرائمری سکول زنانہ بیس سے پچیس سال سے بند ہے، سال میں ایک بار پانی والی نالی میں  پانی آجاتا ہے، پھر روڈ پرایک دو ماہ کے لیے  گاڑیوں کا راستہ بند ہو جاتا ہے،بڑا گوشت صرف ماہِ رمضان  ملتا ہے،حجام ہفتے میں صرف دو دن دکان پر موجود ہوتا ہے،باقی  پانچ دن دوسرے شہر میں ہوتا ہے، مستری، شمسی اور بجلی والا، موبائل زون، پرچون دکان  27 ، مرغی اور مرغی گوشت، آٹا چکی 7، ٹرانسپورٹ اڈہ ڈاٹسن 15، ٹریکٹر 17، مڈل سکول مردانہ،پرائمری سکول مردانہ، کمیونٹی سکول، اسلامی مدرسہ بنین2 ،مدرسہ بنات، میڈیکل سٹور 3،مال مویشی ،دوائی دکان، مساجد 10، تعداد 4800،مستری پنکچر،آٹے والا دکان ،ان دکانوں سے آٹا ، چینی ، گھی ، دال ، مٹھائی ، پیاز ، آلو ، ٹماٹر ، سبزیاں ، پھل ، مرغی آور، مرغی گوشت ، برتن ، کپڑے ، چپل ، برف ، ڈیو بوتلیں، مال مویشی کی دوائیں اور زراعت (کی چیزیں )دوائی وغیرہ ملتی ہیں۔

جواب

            واضح رہے کہ جمعہ و عیدین  کے صحیح ہونے کے لیےاس  جگہ کا مصر(شہر) ہونا یا فناءِ مصر ہونا یا قریہ کبیرہ(بڑا گاؤں) ہونا شرط ہے،قریہ کبیرہ سے مراد یہ ہے کہ وہ گاؤں اتنا بڑا ہو جس کی مجموعی آبادی کم از کم ڈھائی،تین ہزار لوگوں پر مشتمل ہو، اور وہاں ضرورت کی اشیاء آسانی سے مل جاتی ہوں۔

             مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ مسئولہ میں مذكوره بستي يا  جگہ کی مجموعی  آبادی  تین ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل ہے   اور ضرورت کی اشیاء بھی بآسانی میسر  ہوجاتی ہیں ؛لہٰذامذکورہ  جگہ/ بستي/ آبادی قریہ کبیرہ میں  داخل ہے  اور ایسے علاقے میں جمعہ اور عیدین کی نماز  قائم کرنا  جائز  ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:        

"تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق….."

(کتاب الصلوۃ،باب الجمعة،ج:2،ص:138،ط:سعید)

فتاوی دار العلوم دیو بند میں ہے:

سوال(2382): موضع سوجڑو ضلع مظفر نگر میں تقریباً تین ہزار مردم شماری یا کچھ کم ہے اور بازار اس موضع میں نہیں ہے اور کوئی سودا وغیرہ کپڑا یا غلہ یا دوا بھی نہیں ملتی اور موضع کو شہر سے فصل کوس، سوا کوس کا ہے،ایسے دیہات میں جمعہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب: شامی میں تصریح کی ہےکہ قصبہ اور بڑے قریہ میں جمعہ صحیح ہے، عبارت اس کی یہ ہے: وتقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق…الی ان قال : وفیما ذکرنا اشارۃ انھا لا تجوز فی الصغیرۃ...الخ،  پس قریہ  مذکورہ  بظاہر قریہ کبیرہ ہے کہ آبادی اس کی تین ہزار کے قریب ہے، لہذا جمعہ پڑھنا اس میں واجب ہے اور صحیح ہے۔

(ج:5،ص:62،ط:دار الاشاعت)

و فیہ ایضاً:

سوال(2488): جس گاؤں میں احناف کے نزدیک جمعہ جائز ہےتو اس میں کم از کم کتنی آبادی ہونی چاہئے؟

جواب: تین،چار ہزار کی آبادی ہونی چاہیے۔

(ج:5،ص:101،ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101341

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں