بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

تنہائی کے گناہوں سے بچنے کے لیے نیک صحبت کا اختیار اور سیّد الاستغفار کا اہتمام


سوال

تنہائی کے گناہ سے بچنے کے لیے کوئی دعا اور عمل بتادیں۔

جواب

گناہ سے بچنے کے لیے مضبوط ہمت اور پختہ ارادہ چاہیے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ نیک ماحول اور صحبت اختیار کریں اوراگران گناہوں سے بچنا مشکل ہورہاہو تو یہ سوچیں کہ اگر اس گناہ کرتے وقت مجھے میرے والدین  (یا کوئی بھی ایسے رشتہ و تعلق والا شخص جس سے انسان اپنا گناہ چھپانا چاہے مثلاً اساتذہ یا شاگرد وغیرہ)  دیکھ لیں تو کیا میں ان کے سامنے یہ گناہ کرسکوں گا؟ یا شرمندہ ہوں گا؟ پھر یہ سوچیں  کہ جب میں والدین کے سامنے گناہ سے شرماتا ہوں تو اللہ تعالیٰ جو ہر وقت مجھے دیکھ رہے ہیں، جو میرے خالق اور حقیقی محسن ہیں اور حساب و کتاب پر مکمل قادر ہیں، ان کے سامنے میں کس منہ سے حاضر ہوں گا، نیز یہ سوچیں  کہ قیامت کے دن اگر والدین، بیوی بچوں، بہن بھائیوں، اساتذہ، شاگرد، دوستوں اور تمام مخلوق کے سامنے بتادیا کہ فلاں بن فلاں نے فلاں دن فلاں وقت یہ گناہ کیا ہے، تو اس وقت آدمی شرم سے پانی پانی ہوجائے گا، قیامت کا وہ منظر سوچیں  تو امید ہے کہ گناہوں کا ترک کرنا آسان ہوجائے گا۔

اور ان سب باتوں کی عادت پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی صحبت انتہائی ضروری ہے، اس کے ساتھ ساتھ فرض نمازوں کی پابندی کے علاوہ اللہ تعالی سے ان گناہوں سے بچنے کی خصوصی دعا کرتے رہیں ۔  اور اگر نکاح نہیں ہوا تو گھر والوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ آپ کا نکاح کرادیں، نیز تنہائی میں رہنے سے حتی الامکان گریز کریں، اپنے آپ کو بامقصد کاموں میں اتنا مشغول کردیجیے کہ ان فضولیات کا وقت ہی نہ مل سکے۔ نیز  کثرت  کے ساتھ   سید الاستغفار پڑھتے رہیں۔

سید الاستغفار یہ ہے: 

"اللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّی لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِی وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَ وَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِيْ فَإِنَّهٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ".

ترجمہ: ’’اے اللہ تو ہی میرا رب ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں جس قدرطاقت رکھتا ہوں،میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں،پس مجھے بخش دےك کیوں کہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔‘‘

الحزب الاعظم میں مذکورہ دعاؤں کا اہتمام کریں:

"اَلَّلھُمَّ ارْحَمْنِيْ بِتَرْكِ الْمَعَاْصِيْ أَبَدًا مَا أَبْقَیْتَنِيْ، وَارْحَمْنِيْ أَنْ أَتَکَلَّفَ مَاْ لاَ یَعْنِیْنِيْ، وَارْزُقْنِيْ حُسْنَ النَّظَرِ فِیْمَاْ یُرْضِیْكَ عَنِّیْ".

ترجمہ:’’اے اللہ! مجھ پر مہربانی فرما، ہمیشہ گناہوں کو چھوڑنے کے ذریعہ، جب تک آپ مجھ کو باقی رکھیں۔ اور مجھے بچا اس سے کہ میں بہ تکلف وہ کام کروں جو میرے لیے لایعنی ہیں، اور مجھے نصیب فرما اچھی طرح غور کرنا ان کاموں میں جو آپ کو مجھ سے خوش کریں۔

"اَللّٰہُمَّ اِنِّی أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَ تَرْکَ الْمُنْکَراتِ، وَ حُبَّ الْمَسَاکِیْنِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِی وَتَرْحَمَنِی، وَاِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَۃ فَتَوَفَّنِی غَیْرَ مَفْتُونٍ".

ترجمہ:" الٰہی میں تجھ سے مانگتا ہوں اچھے کامون کا کرنا اور برے کاموں کا چھوڑ دینا اور مسکینوں کی محبت اور یہ بات بھی کہ تُو مجھ کو بخش دے اور مجھ پر رحم فرما دے اور جب تُو کسی قوم کا ارادہ فرمائے تو مجھ کو آزمائے بغیر اٹھا لینا۔"

خوفِ خدا ہی وہ چیز ہے جو انسان کو تنہائی میں گناہ سے بچاسکتی ہے، حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ (جوکہ صحابی رسول ﷺ ہیں) سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: جس دل میں خدا کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہوگا، ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ فرماتے ہیں:

" گناہ چھوڑنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ  جب کبھی گناہ کا صدور ہوجائے تو اس کے بعد فوراً دو رکعت نماز پڑھ کر توبہ کرلی جائے، اگر دوبارہ گناہ ہوجائے تو دوبارہ دو رکعت پڑھ کر توبہ کی جائے، اس عمل کو تسلسل کے ساتھ کیا جائے، چند ہی دنوں میں نفس گناہ سے باز آجائے گا، کیوں کہ نماز نفس پر بھاری ہے، نفس پر یہ بوجھ ڈالنے سے نفس کی اصلاح ہوجائے گی۔"

(ماخوذ از خطباتِ حکیم الامت، ج: 28، ص: 260، ط: ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ)

"جس آدمی کے لیے گناہوں کا ترک کرنا بہت مشکل ہوچکا ہو تو اسے چاہیے کہ کسی مستند صاحبِ نسبت  اللہ والے سے اپنا اصلاحی تعلق قائم کرے، ان کی صحبت میں وقت گزارے، خط و کتابت اور فون کے ذریعہ ان کو اپنے احوال سے مطلع کرتا رہے اور جو کچھ وہ کرنے کا کہیں، اس کو پابندی سے کرتا رہے، تو اس سے  انسان کے  لیے گناہوں کا چھوڑنا آسان ہوجاتا ہے۔"

(ماخوذ از ملفوظاتِ حکیم الامت، ج: 1، ص: 57، ط: ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ)

نیز الگ کمرے میں ہوں تو دوازہ اندر سے بند نہ کرے، بلکہ قدرے کھلا رہے تاکہ تنہائی کے احساس سے گناہ کی جرأت نہ ہو۔

معارف القرآن میں ہے:

" ولمن خاف مقام ربه:مقامِ رب سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک قیامت کے روز حق تعالی کے سامنے حساب کے لیے پیشی ہے، اور اس سے خوف کے معنی یہ ہیں کہ جلوت و خلوت میں اور ظاہر و باطن کے تمام احوال میں اس کو یہ مراقبہ دائمی رہتا ہو کہ مجھے ایک روز حق تعالی کے سامنے پیش ہونا اور اعمال کا حسساب دینا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کو ایسا مراقبہ ہمیشہ رہتا ہو وہ گناہ کے پاس نہیں جائے گا۔"

اور قرطبی وغیرہ بعض حضرات مفسرین نے مقامِ رب کی یہ تفسیر بھی کی ہے کہ اللہ تعالی ہمارے ہر قول و فعل اور خفیہ و علانیہ عمل پر نگران اور قائم ہے، ہماری ہر حرکت اس کے سامنے ہے، حاصل اس کا بھی وہی ہوگا کہ حق تعالی کا یہ مراقبہ اس کو گناہوں سے بچادے گا۔

(معارف القرآن للشفیعؒ،8، ص: 261، ط: مکتبہ معارف القرآن، کراچی)

تفسير ابنِ كثير ميں ہے:

"روي عنه أنه قال: إن من خاف مقام ربه لم يزن ولم يسرق".

(ج:7، ص:502، ط:دار طيبه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502101967

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں