بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

تنگ دست مقروض کا کاروبار کے لیے سودی قرضہ لینا


سوال

میں اس وقت تقریباً 12بارہ لاکھ کا مقروض ہوں، میں نے بیرون ملک جانے کے لیے 2 مرتبہ کوشش کی ہے، دونوں دفعہ میرے ساتھ فراڈ ہوا ہے جس کی وجہ سے میں قرض کے دلدل میں پھنس گیا ہوں، ملازمت کے لیے بھی کافی کوشش کی ہے، لیکن کامیابی نہیں ملی، اس قرض میں 5 لاکھ قرض بینک کاہے جوکہ 30% سودپر ہے، بہت کوشش کی ہے کہ اس سودی قرض سے جان چھوٹ جائے، اب میں انتہائی پریشان ہوں، قرض خواہ بہت پریشان کررہے ہیں؟ کیا میں حکومتِ پاکستان جو کاروبار کے لیے 8 سال لیے 3%پرقرض دے رہی، اس قرض سے کاروبار کرسکتاہوں؟ اب تو کہیں سے اور کام کے لیے قرض بھی نہیں ملتا، یہ مجھے علم ہے کہ سود حرام ہے !

جواب

صورتِ مسئولہ میں   مذکورہ قرض اسکیم  سودی ہے، کیوں کہ واپسی کے وقت کچھ  اضافہ ادا کرنے کا معاہدہ شامل ہے، اور سودی لین دین قرآن وحدیث کی رو سے حرام ہے۔ سائل اپنی تنگ دستی کے خاتمے کے لیے سودی قرضہ لے کر اپنے آپ کومزید تنگی کی طرف نہ لے جائے۔

سود کا لین دین شرعاً ا س قدر قبیح اور ناپسندیدہ ہے کہ اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ اعلانِ جنگ قرار دیاگیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے:

{یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَابَقِیَ مِنَ الرِّبوٰ إِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ، فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه}

ترجمہ:…’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑدو، اگر تم ایمان والے ہو ، پھر اگر تم اس پر عمل نہیں کروگے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے‘‘۔[البقرۃ:۲۷۸،۲۷۹-بیان القرآن]

نیز سود کے ایک درہم کو رسول اللہﷺ نے 36مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت گناہ قرار دیا ہے۔ حدیث شریف میں ہے:

 ’’عن عبد اللّٰه بن حنظلة غسیل الملائکة أن النبي صلی اللّٰه علیه وسلم قال: لَدرهمُ ربًا أشد عند اللّٰه تعالٰی من ست وثلثین زنیةً في الخطیئة‘‘. (دار قطنی)

نیز سود کا انجام تباہی اور بربادی ہی ہے۔ سودی معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جائے کہ اس گناہ کا اثر صرف براہِ راست سودی معاملہ کرنے والے دو اشخاص تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے متعلقہ افراد (جو کسی بھی طرح اس سودی معاملہ میں معاون بنتے ہیں، مثلاً: لکھنے والا، گواہ، وغیرہ) وہ سب اللہ کی لعنت اور اس کی رحمت سے دوری کے مستحق بن جاتے ہیں۔

     خلاصہ یہ کہ سودی معاملہ اور سودی لین دین قرآن وحدیث کی رو سے حرام ہے۔ نیز اسلام میں جس طرح سود لینا حرام وناجائز ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام وناجائز ہے اور احادیثِ  مبارکہ میں دونوں پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، سودی معاملہ دنیا اور آخرت کی تباہی اور بربادی، ذلت اور رسوائی کا سبب ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں، اس لیے سودی معاہدہ کرنااور سود کی بنیاد پر قرضہ لینا جائز نہیں ہے۔ ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ سود بلکہ سود کے شبہ  سے بھی اپنے آپ کو محفوظ رکھے؛ لہذا سودی قرضہ لینے کے بجائے کسی سے غیر سودی قرض لے کر کاروبار شروع کریں، یا کسی جگہ ملازمت کرکے کچھ رقم جمع کرکے  پھر کام کریں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144202200642

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں