بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تعمیرات کی رقم پر زکاۃ


سوال

میں سرکاری ملازم ہوں اور میرے اکاؤنٹ میں تقریبًا 3 لاکھ روپے موجود ہیں، میرا اپنا گھر زیر تعمیر ہے اور ان ہی پیسوں سے جو جمع ہیں یا تنخواہ کی صورت میں میرے اکاؤنٹ میں آجاتے ہیں، ان ہی پیسوں سے روزمرہ اخراجات کے علاوہ تعمیرات کا کام بھی چلا رہا ہوں۔ مذکورہ رقم کام کی تکمیل کے لیے ناکافی ہے اور مجھے مزید اتنی رقم کی ضرورت درپیش ہے۔ تو کیا موجودہ صورتِ حال میں مجھے جمع شدہ رقم سے زکات کی ادائیگی کرنا لازم ہے کہ نہیں؟ 

جواب

اگر مذکورہ رقم پر سال گزر گیا ہے اور وہ ابھی تک خرچ نہیں ہوئی تو اس کی زکاۃ ادا کرنا واجب ہے، بشرطیکہ سائل پر اتنا قرضہ نہ ہو کہ جس کو منہا کرنے کے بعد نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت)   سے کم رہ جائے، اور اگر اس رقم پر سال نہیں گزرا اور سال گزرنے سے پہلے یہ رقم مکمل یا اتنی  خرچ ہوجاتی ہے کہ نصاب کے بقدر رقم باقی نہ رہے تو اس رقم کی زکاۃ ادا کرنا واجب نہیں۔ فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200693

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں