بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

تعمیر جدید میں سابقہ مسجد کی جگہ وضوخانہ بنانا


سوال

ہمارے علاقہ شانگلہ میں ایک مسجد تھی ، جس میں باقاعدہ نمازیں پڑھی جاتی تھیں، بعد میں اس جگہ پر تین منزلہ مسجد بنائی گئی جس میں اب باقاعدہ جماعت کرائی جاتی ہے، تو اب پوچھنا یہ ہے کہ سابقہ مسجد جو اب تہہ خانہ رہ گیا  ہے اس میں ضرورت کی وجہ سے وضو خانے بنانا جائز ہے یا نہیں ؟ 

جواب

واضح رہے کہ جو جگہ ایک دفعہ مسجد شرعی بن گئی یعنی نماز کے لیے مخصوص کر دی گئی وہ جگہ ہمیشہ کے لیے مسجد کے حکم میں رہتی ہے،اسے مسجد سے خارج کرنا شرعًا جائز نہیں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں  چوں کہ مسجد کا تہہ خانہ بھی  مسجد کے حکم میں ہے، اس کا بھی ادب واحترام کرنا  اور پاک وصاف رکھنا ضروری ہے،اس لیے   تعمیرِ جدید میں سابقہ مسجد جو اب  تہہ خانہ ہے اس میں وضوخانہ بنانا جائز نہیں ہے،کیوں  کہ اس   میں  مسجد کی تلویث ہوگی، اور یہ عمل  ادب واحترام کے خلاف ہے، جب کہ  مسجد کا ادب واحترام کرنا اور   تلویث و گندگی سے پاک، صاف  رکھنا ضروری ہے،لہٰذا مسجد کے تہہ خانے میں وضوخانہ بنانا درست نہیں ہے، ورنہ انتظامیہ گناہ گار ہو گی۔

الدر المختار  مع الردالمحتار میں ہے:

"(و) كره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلى عنان السماء (واتخاذه طريقا بغير عذر)."

(کتاب الصلاۃ،ج:1،ص:656،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"[فرع] لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تتارخانية، فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره فيجب هدمه ولو على جدار المسجد، ولا يجوز أخذ الأجرة منه ولا أن يجعل شيئا منه مستغلا ولا سكنى بزازية۔۔(ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي).

وفي الرد:"(قوله: أما لو تمت المسجدية) أي بالقول على المفتى به أو بالصلاة فيه على قولهما ط وعبارة التتارخانية، وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس ثم جاء بعد ذلك يبني لا بترك اهـ وبه علم أن قوله في النهر، وأما لو تمت المسجدية، ثم أراد هدم ذلك البناء فإنه لا يمكن من ذلك إلخ فيه نظر؛ لأنه ليس في عبارة التتارخانية ذكر الهدم وإن كان الظاهر أن الحكم كذلك (قوله: فإذا كان هذا في الواقف إلخ) من كلام البحر والإشارة إلى المنع من البناء (قوله: ولو على جدار المسجد) مع أنه لم يأخذ من هواء المسجد شيئا. اهـ. ط ونقل في البحر قبله ولا يوضع الجذع على جدار المسجد وإن كان من أوقافه. اهـ."

(کتاب الوقف ،ج:4 ،ص:358 ،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100840

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں