بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

تمام صحابہ کے جنتی ہونے کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ


سوال

 کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ: ہم ہر صحابی نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو جنتی قطعی طور پر نہیں کہہ سکتے، کیوں کہ صحابی اسے کہتے  ہیں: جنہوں نے حالتِ ایمان میں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو دیکھا یا صحبت پائی، اور حالتِ ایمان ہی سے اس دنیا سے گئے، اب ہمیں کیا پتہ کہ کون حالتِ ایمان ہی سے دنیا سے گیا؟ ہمیں کیا پتہ کہ ہم اسےصحابی مانتے ہوں، جب کہ وہ منافق ہو؟ اہل سنت والجماعت کا صحیح عقیدہ بیان فرما دیں۔

جواب

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں آپ پر ایمان لانے والے تین گروہ معروف ہیں،ایک جماعتِ حقہ،دوسرے منافقین اور تیسرے مرتدین،چندلوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی مرتد ہوئے،اور آپ کے بعد بھی مرتد ہوئے،وہ سب اپنے نام ونسب اور مکمل تعارف کے ساتھ حدیث اور تاریخ میں مذکورہیں،جب کہ منافقین کی فہرست, آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی معلوم ہوئی تھی،جس سے بعض  مخلص مسلمانوں کو آگاہ بھی  کردیا گیا تھا،ان کی تفصیلات بھی کتب حدیث میں موجود ہیں،کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے،ان دونوں گروہوں  کے احکام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادیے تھے،ان محدود لوگوں کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اول تاآخر پکے مؤمن تھے،ان کے بارے میں قرآن کریم میں :اولئك هم المؤمنون حقا  الأية،رضي الله عنهم ورضوا عنهالأية، ان امنوا بمثل ماامنتم به فقد اهتدوا الأية،جیسے الہی اعلانات موجود ہیں،نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر اس جماعت کے مؤمن اور معیار ایمان ہونےکا بتایا ہے،جو ذخیرہ حدیث میں کتاب المناقب کے زیر عنوان ذکر کیے گئے ہیں چنانچہ امت مسلمہ کے ہاں تواتر کے ساتھ صحابہ کرام کی جماعت ان آیتوں اور حدیثوں کی مصداق چلی آرہی ہے،یہی اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے،اس عقیدہ کے برعکس اس جماعت کے بارے میں  گستاخانہ آراء سبائیت اور مجوسیت کے سوء اشتراک کا نتیجہ ہیں ۔

قرآن کریم میں ہے:

"وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ."[التَّوْبَةِ: 100]

معارف القرآن میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:

"صحابہ کرام سب کے سب بلا استثناء جنتی اور اللہ تعالیٰ کی رضاء سے مشرف ہیں :
محمد بن کعب قرظی سے کسی نے دریافت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں، انھوں نے کہا کہ صحابہ کرام سب کے سب جنت میں ہیں اگرچہ وہ لوگ ہوں جن سے دنیا میں غلطیاں اور گناہ بھی ہوئے ہیں، اس شخص نے دریا فت کیا کہ یہ بات آپ نے کہاں سے کہی، ( اس کی کیا دلیل ہے) انہوں نے فرمایا کہ قرآن کریم کی یہ آیت پڑھو : السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ اس میں تمام صحابہ کرام کے متعلق بلا کسی شرط کے رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ارشاد فرمایا ہے البتہ تابعین کے معاملہ میں اتباع باحسان کی شرط لگائی گئی ہے، جس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام بلا کسی قید و شرط کے سب کے سب بلا استثناء رضوان الہٰی سے سرفراز ہیں ۔
تفسیر مظہری میں یہ قول نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ میرے نزدیک سب صحابہ کرام کے جنتی ہونے پر اس سے بھی زیادہ واضح استدلال اس آیت سے ہے : (آیت)لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَقٰتَلُوْ آ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى، اس آیت میں پوری صراحت سے یہ بیان کردیا گیا ہے کہ صحابہ کرام اولین ہوں یا آخرین سب سے اللہ تعالیٰ نے حسنی یعنی جنت کا وعدہ فرمایا ہے ۔
اور حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جہنم کی آگ اس مسلمان کو نہیں چھو سکتی جس نے مجھے دیکھا ہے یا میرے دیکھنے والوں کو دیکھا ہے ( ترمذی عن جابر ) ۔"

(ج:4، ص:448، ط:مکتبہ معارف القرآن)

وَقَالَ تَعَالَى:

"{مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا} [الْفَتْحِ: 29] إِلَى آخِرِ السُّورَةِ."

وَقَالَ تَعَالَى:

"{لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} [الْفَتْحِ: 18] ."

الصارم المسلول میں امام ابن تیمیہ اس آیت کے ذیل میں قاضی ابو یعلیؒ کا قول نقل کرتے ہیں :

"والرضى من الله صفة قديمة فلا يرضى إلا عن عبد علم أنه يوافقه على موجبات الرضى ومن رضي الله عنه لم يسخط عليه أبدا."

(ص:572، ص:المملكة العربية السعودية)

وَقَالَ تَعَالَى:

"{إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ} [الْأَنْفَالِ: 72] . إِلَى آخِرِ السُّورَةِ."

وَقَالَ تَعَالَى:

"{لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ} [الْحَدِيدِ:10]."

مفتی شفیع صاحبؒ معارف القرآن میں فرماتے ہیں:

"تمام صحابہ کرام کے لئے مغفرت و رحمت کی بشارت اور صحابہ کا باقی امت سے امتیاز :
آیات مذکورہ میں اگرچہ صحابہ کرام میں باہمی درجات کا تفاضل ذکر کیا گیا ہے لیکن آخر میں فرمایا وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى ، یعنی باوجود باہمی فرق مراتب کے اللہ تعالیٰ نے حسنیٰ یعنی جنت و مغفرت کا وعدہ سب ہی کے لئے کرلیا ہے ، یہ وعدہ صحابہ کرام کے ان دونوں طبقوں کے لئے ہے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے یا بعد میں اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور مخالفین اسلام کا مقابلہ کیا ، اس میں تقریباً صحابہ کرام کی پوری جماعت شامل ہو جاتی ہے کیونکہ ایسے افراد تو شاذ و نادر ہی ہو سکتے ہیں جنہوں نے مسلمان ہو جانے کے باوجود اللہ کے لئے کچھ خرچ بھی نہ کیا ہو اور مخالفین اسلام کے مقابلہ و مقاتلہ میں بھی شریک نہ ہوئے ہوں ، اس لئے قرآن کریم کا یہ اعلان مغفرت و رحمت پوری جماعت صحابہ کرام کے لئے عام اور شامل ہے ۔
ابن حزم نے فرمایا کہ اس کے ساتھ قرآن کی دوسری آیت سورۃ انبیاء کو ملاؤ جس میں فرمایا ہے اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ۔ لَا يَسْمَعُوْنَ حَسِيْسَهَا ۚ وَهُمْ فِيْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ۔ " یعنی جن لوگوں کے لئے ہم نے حسنیٰ کو مقرر کردیا ہے وہ جہنم سے ایسے دور رہیں گے کہ اس کی تکلیف دہ آوازیں بھی ان کے کانوں تک نہ پہنچیں گی اور اپنی دلخواہ نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے "۔

(ج:6، ص:298، ط:مکتبہ معارف القرآن)

آگے فرماتے ہیں :

"صحابہ کرام کے بارے میں پوری امت کا اجماعی عقیدہ :
یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام کی تعظیم و تکریم ، ان سے محبت رکھنا ، ان کی مدح و ثناء کرنا واجب ہے اور ان کے آپس میں جو اختلافات اور مشاجرات پیش آئے ان کے معاملے میں سکوت کرنا ، کسی کو مورد الزام نہ بنانا لازم ہے۔"

(ج:6، ص:300، ط:مکتبہ معارف القرآن)

وَقَالَ تَعَالَى:

"{لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ - وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ - وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} ."

[الحشر: 8 - 10]

صحيح بخاری میں ہے:

"حدثنا خلاد: حدثنا مسعر، عن حبيب بن أبي ثابت، عن أبي الشعثاء، عن حذيفة قال: إنما كان ‌النفاق ‌على ‌عهد ‌النبي صلى الله عليه وسلم، فأما اليوم: فإنما هو الكفر بعد الإيمان ".

(كتاب الفتن، باب:  إذا قال عند القوم شيئا، ثم خرج فقال بخلافه، ج:9، ص:58، ط:السلطانية)

وفیہ ایضا:

"عن عبد الله قال:سئل النبي صلى الله عليه وسلم: أي الناس خير؟ قال: (قرني، ‌ثم ‌الذين ‌يلونهم، ‌ثم ‌الذين ‌يلونهم."

(باب: إذا قال: أشهد بالله، أو شهدت بالله، ج:6، ص:2452، ط:دار ابن كثير)

 مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌لا ‌تمس ‌النار ‌مسلما رآني أو رأى من رآني» . رواه الترمذي."

(باب مناقب الصحابة، ج:3، ص:1695، ط:المكتب الإسلامي)

لمعات التنقیح فی شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"لا خفاء في رجحان رتبة من لازمه صلى الله عليه وسلم وقاتل معه أو قتل تحت رايته على من لم يلازمه، أو لم يحضر معه مشهدًا، أو على من كلمه يسيرًا، أو ماشاه قليلًا، أو رآه من بعيد، أو في حال الطفولية، وإن كان شرف الصحبة حاصلا للجميع، انتهى.

ويعرف كونه صحابيًا بالتواتر، أو الاستفاضة، أو الشهرة، أو بإخبار بعض الصحابة، أو بعض ثقات التابعين، أو بإخباره عن نفسه بأنه صحابي إذا كان دعواه يدخل تحت الإمكان.

ثم إنه قد ثبت بالآيات والأحاديث فضل الصحابة وشرفهم ما لا سبيل معه إلى الإنكار والشك في ذلك، وموتهم على الكفر كما يزعم الروافض، وما نقل من ذلك عن واحد أو اثنين منهم كعبد اللَّه بن جحش وابن خطل فنادر، ولم يكن إيمانهم حقيقةً، أو لم يكونوا داخلين في حيطة هذه الفضائل والكرامات، وقد أُخذ من قوله: {لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ} [الفتح: 29] كفرُ من يبغضهم ويغيظهم، مع ما ثبت منهم من الهجرة والجهاد ونصرة الإسلام وبذل المهج والأموال وقتل الآباء والأولاد والمناصحة في الدين وقوة الإيمان واليقين."

(باب مناقب الصحابة، ج:9، ص:579، ط:دار النوادر)

الکوکب الدری علی جامع الترمذی میں ہے:

"قال أبو محمد بن حزم: ‌الصحابة ‌كلهم ‌من ‌أهل ‌الجنة قطعًا."

(باب في فضل من رأى النبي صلى الله عليه وسلم وصحبه، ج:4، ص:449، ط:مطبعة ندوة العلماء الهند)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101838

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں