بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

طالب علم کا گھر گھر جا کر مدرسوں کے طلباء کے لیے کھانا جمع کرنا


سوال

آپ کو معلوم ہے کہ وطن عزیز میں دینی مدارس کا جال بچھاہواہے ،ان میں اکثر مدارس کے لیے مطبخ وغیرہ کاانتظام موجود ہے ،جب کہ  سوات ،مینگورہ کے اکثر مدارس ومساجد میں یہ انتظام مفقودہے ،چھوٹے طلباءکرام برتن لے کر  پورے محلہ میں گشت کرکے مدارس ومساجدکے طلباء کے لیے  کھانا اکٹھا  کرتے ہیں، بہت کم ہوٹل والے تو آدھی روٹی اور تھوڑا سالن، صبح کی وقت کچھ چائے دیتے ہیں ،لیکن مشاہدہ سےثابت ہے کہ اکثرلوگ اس فعل کو بڑی حقارت سے دیکھتے ہیں اور انکارکر دیتے ہیں ، دیکھا گیا ہے کہ چھوٹے طلباء جو بچے ہوتے ہیں دینے پر اصرار کرتے ہیں اور وہ سنگدل لوگ نہیں دیتے اور یہ طلباء اکثراس وظیفہ کی آڑلےکر بھیک مانگتے پھرتے ہیں ،کبھی کھیر،اور کبھی آئس کریم والوں کے سامنے ہاتھ آگے کرکے، کبھی سبزی اور فروٹ کی ریڑھی سے مانگتے ہیں ، مخیر حضرات کی کمی نہیں لیکن اکثر سرمایہ دار لوگ ان حضرات کو معاشرے پر بوجھ تصورکرتے ہیں،تو اس بارے میں سوات کے کچھ علماء کہتے ہیں یہ عمل صحیح نہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ نہیں بالکل صحیح ہے،آپ راہ نمائی فرمائیں آیا یہ عمل صحیح ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی جگہ کا عرف یہی ہے کہ طلباء  اہل محلہ کے گھروں سے روٹی سالن جمع کرتے ہیں اور  مقامی رہائشی  سعادت سمجھ کر ان کو عزت کے ساتھ دیتے ہیں، طلباء صرف ان کو برتن دیتے ہیں اور وہ بخوشی اپنی استطاعت کے مطابق اس میں سالن وغیرہ ڈال کر دے دیتے ہیں تو مذکورہ صورت میں  طلباء  کے لیے اہل محلہ کے گھروں سے روٹی سالن جمع کرنا درست ہے  ،اور   جہاں یہ عرف نہیں ہے بلکہ مقامی رہائشی اس کو بوجھ سمجھتے ہوں ،اور بعض تو طلباء کو ذلیل اور دھتکار بھی دیتے ہوں،اور نہ دینے کی صورت میں  طلباء کی طرف سے مانگنے میں بھی  اصرار ہوتا ہو ،  تو یہ صورت جائز نہیں ہے،ایسی صورت میں   اہل مدرسہ کو چاہیے  کہ طلباء کے لیے  کھانے کا انتظام کریں   ،یا علاقے  والوں کو ترغیب دے کر تیار کریں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا) يحل أن (يسأل) من القوت (من له قوت يومه) بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحاله لإعانته على المحرم (ولو سأل للكسوة) أو لاشتغاله عن الكسب بالجهاد أو طلب العلم (جاز) لو محتاجا(قوله: أو طلب العلم) ذكره في البحر بحثا بقوله وينبغي أن يلحق به أي بالغازي طالب العلم لاشتغاله عن الكسب بالعلم، ولهذا قالوا: إن نفقته على أبيه وإن كان صحيحا مكتسبا كما لو كان زمنا."

(کتاب الزکوۃ ،ج:2،ص:355،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"قال في النهر: والمختار أن السائل إن كان لا يمر بين يدي المصلي ولا يتخطى الرقاب ولا يسأل إلحافا بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء اهـ ومثله في البزازية. وفيها ولا يجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة."

(کتاب الصلاۃ،ج:2،ص:164،ط:سعید)

فیض الباری میں ہے:

"وفي «الكنز» أن السؤالَ حرامٌ على مَنْ كان عنده قوتُ يومٍ وليلة. وراجع أقسامَ الغني من «البحر». وقد اختلفت الروايات فيه عند الطحاوي. والفصلُ عندي أنه يختلِفُ باختلافِ الأحوال والأشخاص، وليست فيه ضابطةٌ كُليةُ، وبهذا يحصلُ الجمع في جملة الروايات في ذلك."

(کتاب الزکوۃ ،ج:3،ص:146،ط:دار الکتب العلمیہ)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144502102118

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں