بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

طالب کی علم کی مدد نہ کرسکنے کی صورت میں والدین کے آخرت کے اعزاز کا حکم


سوال

 کیا  اگر طالب علم کے والدین طلبِ علم میں ان کی  مدد اور کفالت صحیح  طریقہ پر نہ کریں تو کیا والدین ان ثواب اور اُجور کے مستحق ہوں گے،  جن کے بارے میں احادیث وارد ہوئی ہے؟

جواب

سوال  میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ مذکورہ طالب علم بالغ ہے یا نابالغ؟ کمانے کے قابل ہے یا نہیں ؟ والدین کے اس کی مدد اور کفالت کے صحیح طریقہ پر نہ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اگر والدین منع کررہے ہیں تو کس وجہ سے منع کررہے ہیں ؟ کیا وہ محتاج ، تنگدست یا بیمار ہیں؟ ان سب سوالات کے تفصیل معلوم ہونے کے بعد اس کا حتمی  اور مکمل جواب دیا جاسکتا ہے۔

باقی اصولی جواب یہی ہے کہ اگر والدین نے اولاد کی اچھی تربیت کی اور اولاد  نے قرآن اور دین کی تعلیم حاصل کی اور اس  پر عمل کیا تو قیامت کے دن  اس کے والدین کو اعزاز اور اکرام سے نوازا جائے گا، یہ اس بچے کے والد ہونے کے اعزاز کی وجہ سے ہوگا، کیوں کہ یہ اس کے بچہ کے دنیا میں وجود کا ذریعہ ہے،  اگر بچے کے پاس اپنا کوئی مال نہیں ہے، اور  والد   استطاعت ہوتے ہوئے  اپنے ذمہ بچے کے لازم  نققہ  میں  کوتاہی کرتا ہے  تو  یہ شرعاً جائز نہیں ہے۔لیکن اس کی وجہ سے اس کو والد ہونے کی حیثیت سے جو  اعزاز دیا جائے گا، اس سے محروم نہیں ہوگا۔

بذل المجهود في حل سنن أبي داود میں ہے:

"حدثنا أحمد بن عمرو بن السرح، نا ابن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن زبان بن فائد، عن سهل بن معاذ الجهني، عن أبيه) معاذ بن أنس (أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقال: من قرأ القرآن) أي أحكمه كما في رواية، أي: فأتقنه، وقال ابن حجر: أي حفظه عن ظهر قلب (وعمل بما فيه ألبس والداه تاجًا يوم القيامة)، قال الطيبي : كناية عن الملك والسعادة، انتهى. والأظهر حمله على الظاهر كما يظهر من قوله: (ضوؤه) أي التاج (أحسن من ضوء الشمس) حال كونها (في بيوت الدنيا لو كانت) الشمس على الفرض والتقدير (فيكم) أي في بيوتكم تتميم للمبالغة، فإن الشمس مع ضوئها وحسنها لو كانت داخلة في بيوتنا كانت آنس وأتم مما لو كانت خارجة عنها (فما ظنكم) أي إذا كان هذا جزاء والديه لكونهما سببًا لوجوده (بالذي عمل بهذا؟!). قال الطيبي: استقصار للظن عن كنه معرفة ما يعطى للقارئ العامل به من الكرامة والملك، مما لا عين رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر على قلب بشر، كما أفادته ما الاستفهامية المؤكدة لمعنى تحير الظان."

  (6 / 160، باب: في ثواب قراءة القرآن، ط:مركز النخب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307100283

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں