بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

چہرہ کے پردہ کا ثبوت / تعلیمی ادارے میں تعلیمی ضرورت کے لیے خواتین کا چہرہ کھلا رکھ کر پڑھانا


سوال

ہم ایک ایجو کیشن سسٹم چلارہے ہیں کہ جس کے تحت پری پرائمری / مونٹیسوری سے لے کر کالج لیول کے مختلف تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں،  ان تعلیمی اداروں میں میٹرک اسٹریم، کیمبرج اسٹریم اور مدرسہ اسٹریم کے ادارے شامل ہیں،  تدریسی و غیر تدریسی عملے میں 80 سے 90 فی صد عملہ خواتین پر مشتمل ہے،  ان تعلیمی اداروں کے پرنسپلز میں بھی 80 فی صد خواتین ہیں۔ البتہ ان اداروں کی انتظامی اعتبار سے نگرانی ایک ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کرتا ہے اور ڈائریکٹوریٹ 90 فی صد حضرات پر مشتمل ہے۔

اس حوالے سے انتظامیہ یعنی اسکولز و کالجز کے پرنسپلز ، سیکشن انچار جز اور ایجو کیشن ڈائریکٹوریٹ کے ذمہ داران کو مشکل یہ پیش آرہی ہے کہ خواتین ٹیچر ز، پری پرائمری کلاسز میں بالخصوص اور دیگر سیکشنز میں بالعموم کہ جہاں مردوں کا عام طور پر آنا جانا بھی نہیں ہے یا بہت کم ہے وہاں چہرے کا پردہ کرتی ہیں،  جس سے دوران تدریس چھوٹے بچوں کو بالخصوص اور دیگر کو بالعموم بات کا سمجھانا سمجھنا خاصا مشکل ہوتا ہے،  خاص طور پر مونٹیسوری کے بچوں کے لیے (کہ جہاں بچوں کی عمریں ڈھائی سے پانچ سال تک ہوتی ہیں) نقاب کے ساتھ ٹیچرز سے پڑھنا خاصی دشواری کا باعث ہوتا ہے۔ البتہ مکمل عبا یا لینا، اسکارف لینا اور کسی قسم کا میک اپ نہ کر کے تدریس کرنا نہایت ہی پسندیدہ اور مطلوب ہے۔

درج بالا تفصیل  کی روشنی میں آپ سے درج ذیل سوالات کے حوالے سے رہنمائی درکار ہے :-

1: قرآن و سنت، سیرت طیبہ ، آثار صحابہ اور مختلف فقہائے کرام کی آراء میں چہرے کے پردے کے حوالے سے کیا ر اہ نمائی ملتی ہے اور کس حد تک چہرے کی ٹکیا، ہاتھ اور پاؤں کے کھلا رکھنے میں گنجائش و نرمی پائی جاتی ہے؟

2: کسی تعلیمی ادارے میں خواتین کے لیے صرف دوران تدریس کلاس روم میں بالخصوص اور دیگر اداروں میں دوارن ملازمت بالعموم چہرے کا پردہ کرنے کے حوالے سے کس حد تک گنجائش نرمی کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے ؟

3: کسی بھی ادارے بالخصوص تعلیمی ادارے کی انتظامیہ کو اپنے خواتین اسٹاف کے لیے عبایا اور اسکارف لازمی قرار دینا اور صرف چہرے کی ٹکیا کا پردہ نہ کرنے کے احکامات جاری کرنے کے حوالے سے کس حد تک جانے کی اجازت ہے؟

قرآن و سنت کی روشنی میں مفصل و مدلل وضاحت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

جواب

1:شریعتِ مطہرہ  نے پاکیزہ معاشرہ قائم کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے کچھ راہ نما اصول بیان کیے ہیں، تاکہ معاشرہ  میں  بے راہ روی نہ پھیلے، جن میں سے نگاہوں کی حفاظت اور پردے کا اہتمام ہے۔نگاہوں کی حفاظت اور پردے کا اہتمام نہ کرنے  کی وجہ سے عمومًا گناہ کی طرف میلان ہوجاتا ہےاور معاشرہ بے راہ روی کی طرف چلا جاتا ہےاس لیے قرآن و سنت میں پردے کے متعلق واضح احکام بیان کیے گئے ہیں، مرد و عورت کو نگاہوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ خواتین کو یہ اضافی حکم دیا گیا ہے کہ وہ غیر محرم سے  پردہ کریں،  چنانچہ اجنبیغیر محرم  سے  بوجۂ مصلحت  و دفعِ فتنہ   چہرے کا پردہ کرنا  واجب ہے، اور غیر محرم  رشتہ دار (جیسےچچازاد، ماموں زاد وغیرہ)  سے عورت کے لیے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کے علاوہ پورے جسم کا پردہ واجب ہے۔ البتہ بے حیائی  میں واقع ہونے اور فتنے میں مبتلا ہونے سے بچاؤ کے لیےجانبین کو  احتیاطی تدابیر  اختیارکرلینی چاہییں، مثلًا: دیور، جیٹھ، لڑکی کے چچازاد، ماموں زاد وغیرہ  گھر میں آنے سے پہلے اطلاع دیں،گھر میں داخل ہونے سے پہلے گھنٹی وغیرہ بجا دیں یا بلند آواز سے سلام کرلیں،مرد و خواتین نگاہوں کی حفاظت کریں، خواتین  دوپٹے  یا بڑی چادر سے اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھیں، نیز بے تکلفانہ گفتگو،  تنہائی میں ملاقات اور غیر ضروری اختلاط سے گریز کریں ، لیکن   اگر فتنے کا خوف ہو تو ان سےبھی  چہرے کا پردہ واجب ہوگا۔

2: اگر كلاس ميں پڑھنے والی صرف لڑکیاں ہوں تو خواتین بغیر نقاب کے پڑھاسکتی ہیں، جب مرد حضرات ضرورت کی وجہ سے سامنے آئیں تو خواتین چہرہ ڈھانپ لیں، لیکن اسکول انتظامیہ اس بات کا اہتمام کرائے کہ  مرد   حضرات بغیر اطلاع کے خواتین کے شعبے میں داخل نہ ہوں۔ 

3: اسکول انتظامیہ کا  خواتین عملے کے لیے عبایا اور اسکارف لازمی قرار دینا اور  لڑکیوں اور چھوٹے بچوں کی کلاس میں چہرے کھلے رکھنے کے احکام جاری کرنے کی اجازت ہے۔

قرآنِ کریم میں ہے: 

وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ [النور: 31]

ترجمہ:"آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے بے شک اللہ تعالیٰ کو سب کی خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ (وہ بھی ) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور زینت ( کے مواقع ) کو ظاہر نہ کریں مگر جو اس ( موقع زینت) میں سے (غالبًا) کھلا رہتا ہے (جس کے ہر وقت چھپانے میں حرج ہے ) اور اپنے ڈوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں اور اپنی زینت ( کے مواقعہ مذکورہ ) کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے (محارم پر یعنی ) باپ پر یا اپنے شوہر کے باپ پر یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہروں کے بیٹوں پر یا اپنے (حقیقی علاقی اور اخیافی بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر یا اپنی حقیقی علاقی اور اختیاتی بہنوں کے بیٹوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنی لونڈیوں پر یا ان مردوں پر جو طفیلی ( کے طور پر رہتے ) ہوں اور ان کو ذرا توجہ نہ ہو یا ایسے لڑکوں پر جو عورتوں کے پردوں کی باتوں سے بھی ناواقف ہیں ( مراد غیر مراہق ہیں ) اور اپنے پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہو جائے اور ( مسلمانوں تم سے جو ان احکام میں کوتاہی ہو گئی ہو تو ) سب اللہ کے سامنے تو بہ کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔"

(بیان القرآن،ج:2،ص:573،آیت نمبر30۔31ِ،ط:مکتبہ رحمانیہ)

تفسیر نسفی (مدارک التنزیل) میں ہے:

"{أَوِ الطفل الذين} هو جنس فصلح أن يراد به الجمع {لَمْ يَظْهَرُواْ على عورات النساء} أي لم يطلعوا لعدم الشهوة من ظهر على الشئ إذا اطلع عليه أو لم يبلغوا أو ان القدرة على الوطء من ظهر على فلان إذا قوي عليه."

(مدارك التنزيل، سورة النور 2/ 501 ط: دار الكلم الطيب، بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

(فإن خاف الشهوة) أو شك (امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة وإلا فحرام وهذا في زمانهم، وأما في زماننا فمنع من الشابة قهستاني وغيره (إلا) النظر لا المس (لحاجة) كقاض وشاهد يحكم (ويشهد عليها) لف ونشر مرتب لا لتتحمل الشهادة في الأصح (وكذا مريد نكاحها) ولو عن شهوة بنية السنة لا قضاء الشهوة.
و في الرد:

(قوله: مقيد بعدم الشهوة) قال في التتارخانية، وفي شرح الكرخي النظر إلى وجه الأجنبية الحرة ليس بحرام، ولكنه يكره لغير حاجة اهـ وظاهره الكراهة ولو بلا شهوة (قوله وإلا فحرام) أي إن كان عن شهوة حرم

(رد المحتار، كتاب الحظر و الإباحة 6/ 370 ط:سعيد)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144603100286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں