بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تعلیق طلاق کی صورت اور اس کا حل


سوال

اگر  کوئی آدمی ایسے بولے اگر اس لڑکی کی سوا جس سے بھی میرا نکاح ہوجائےاس پر تین طلاق ہوں،  اس لڑکی سوا کسی سے بھی نکاح نہیں  کرونگا اور یہ آدمی غیر شادی شدہ ہے.کیا یہ  آدمی جب بھی کسی اور سے نکاح کریگا تین طلاقیں واقع ہونگی ؟ کیا  طلاق سے بچنے کے لیئے  کوئی  راستہ ہے کس طرح نکاح کریں.‏

جواب

اگرچہ اس سوال کا جواب پہلے بھی سائل کو دیاجا چکا ہے، دوبارہ ملاحظہ ہو،مذکورہ شخص متعینہ خاتون کے علاوہ جس لڑکی سے بھی نکاح کریگا اس کی شرط کے مطابق اس پر تین طلاق واقع ھوجائینگی اور وہ عورت اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائیگی، البتہ اس مطلقہ کا کسی اور جگہ نکاح ہو اور اس دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا دوسرا شوہر بھی حقوق زوجیت ادا کرنے کے بعد طلاق دیدے تو اب عدت کے بعد پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں۔ اس تفصیل کے بعد بھی سائل کو کچھ سمجھنا ہو تو سائل کسی دارالافتاء میں حاضر ہوکر مسئلہ سمجھ لے، اس لئیے کہ اس سوال کا جواب کئی مرتبہ سائل کو دیا جاچکا ہے۔واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143507200001

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں