بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1441ھ- 14 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تعلیق طلاق کی ایک صورت اور حلالہ کا ایک مسئلہ


سوال

ایک آدمی نے نشےکی حالت میں کسی سے پیسے لیتے ہوئے یہ کہاکہ اگر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں تمہارے پیسے کھا جاوں گا یا واپس نہیں کروں گا تو میری بیوی کو تین طلاق اگر میں تمہیں پیسے نہ لوٹاوں البتہ تاخیر ہوسکتی ہے ؟اب اگروہ شخص پیسے ادا کردیتا ہے تو کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہوگی ؟یا اگر اس کو پیسے ادا کرنے میں تاخیر ہوتی ہے لیکن نیت اس کی یہی ہے کہ جیسے ہی پیسے آئیں گے تو میں اس آدمی کو لوٹا دوں گا تو کیا ایسی صورت میں اس کی بیوی کو طلاق واقع ہوگی ؟نیز یہ کہ اگر کوئی شخص حلالہ کرواتے وقت یہ شرط رکھے کہ انزال اندر نہیں کرنا اور وہ آدمی جماع کرتا ہے لیکن انزال اندر نہیں کرتااور جماع کے فورا بعد طلاق دیدیتاہے تو کیا ایسی صورت میں حلالہ ہوجائے گا ؟

جواب

۱:صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے اگر یہ الفاظ میری بیوی کوتین طلاق اگرمیں تمہیں پیسے نہ لوٹاؤں البتہ تاخیر ہوسکتی ہے ایک ساتھ کہے ہیں درمیان میں فاصلہ نہیں کیا توان الفاظ مذکورہ شخص کی بیوی کی طلاق معلق ہوگئی ہے۔ اگرمذکورہ شخص مذکورہ رقم ادا کردیتاہے توطلاق واقع نہیں ہوگی۔ نیز تاخیر کی صورت میں بھی طلاق واقع نہیں ہوگی کیوں تاخیر کی صورت کو وہ مستثنی کرچکاہے۔ ۲: مذکورہ شرط کے ساتھ حلالہ کرنا جائزنہیں ہے، اس پراحادیث میں اس پرلعنت آئی ہے۔ البتہ اگرکسی نے یہ شرط رکھی اور شوہرثانی نے اس پرعمل کیا اور انزال سے پہلے جماع کے فورا بعد طلاق دے دی توبھی حلالہ ہوجائے گا یعنی عورت اس شوہرکی عدت گزارنے کے بعد سابق شوہراور دیگرکے لیے حلال ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143605200036

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے