بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جمادى الاخرى 1443ھ 18 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

طلات کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

1) میرے داماد اور بیٹی کے درمیان خانگی معاملات میں جھگڑا ہوا اسی دوران میرے داماد نے میری بیٹی کو کہا اگر تم نے فون اٹھایا اور والدہ کو کال کی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا ،میری بیٹی فون اٹھا کر مجھے کال کرنے لگی تو میری بیٹی کا دعویٰ ہے کہ اس موقعہ پر میرے شوہر نے کہا :"طلاق طلاق طلاق"،میری بیٹی نے مجھے فون پر کہا میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے ،میرے داماد نے اس سے فون لے کر مجھے کہا آپ کی بیٹی جھوٹ بول رہی ہے میں نے طلاق نہیں دی ہے میں نے اسے ڈرانے کے لیے "طلات طلات طلات "کہا ہے یہ طلاق سمجھ رہی ہے۔میری بیٹی کا دعویٰ ہے اس نے یہی سمجھا ہے کہ طلاق طلاق طلاق کہا ہے،اس کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے دونوں اکیلے تھے ،اور  شوہر قسم کھاتا ہے میں نے لفظ طلاق نہیں  بولا، مجھے فون پر کہا ہے میں نے "طلات طلات طلات "تین مرتبہ کہا ہے طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا ،میرا داماد کبھی ذاکر نائک کا حوالہ دیتا ہے کہ اگر میں نے طلاق بھی کہا ہو تو ایک مجلس میں ایک ہی طلاق ہوئی ہے ،اور اس کا کلپ بھی سنواتا ہے ،ابھی میری بیٹی اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے لیکن وہ بھی اور ہم بھی اس حوالے سے پریشان ہیں ،شریعت کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمائیں اگر طلاق نہیں  ہوئی تو اطمینان  سے رہے اگر  ہوئی ہے تو علیحدگی کی جائے۔ 

جواب

صورت مسئولہ میں دونوں میاں بیوی کے درمیان طلاق کے الفااظ کے معاملہ  میں اختلاف پایا جا تا  ہے "بیوی" کا دعویٰ یہ  ہے کہ اس  کے شوہر نے تین دفعہ" طلاق طلاق طلاق " کے الفاظ کہے ہیں  " جبکہ "شوہر"کا کہنا یہ ہے کہ اس نے ڈرانے کے لیے تین دفعہ" طلات طلات طلات " کے  الفاظ کہے ہیں، میں نے طلاق نہیں دی ،فریقین کے بیان میں چونکہ  تضاد  ہے ، ایسے اختلاف کی صورت میں  فریقین اپنے اس مسئلہ کے شرعی حل اور فیصلہ  کے لئے  کسی مستندمفتی یاعالم دین کے پاس جاکر انہیں اپنا حکم (منصف) بنائیں بعد ازاں وہ حسب ضابطہ جو شرعی   فیصلہ کریں  اس کے مطابق عمل کیا جائے۔جب تک فیصلہ نہ ہو اس وقت تک بیٹی کو اس کے شوہر سے علیحدہ رکھیں ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(هو) لغة: جعل الحكم فيما لك لغيرك. وعرفا: (تولية الخصمين حاكما يحكم بينهما، وركنه لفظه الدال عليه مع قبول الآخر)ذلك (وشرطه من جهة المحكم) بالكسر (العقل لا الحرية والإسلام) فصح تحكيم ذمي ذميا (و) شرطه (من جهة الحكم) بالفتح (صلاحيته للقضاء)"

(کتاب القضاء، باب التحکیم،ج:۵،ص:۴۲۸،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100812

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں