بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

طلاق شدہ عورت کی عدت


سوال

طلاق شدہ عورت کی عدت کتنی ہے ؟

جواب

 واضح رہے کہ طلاق شدہ عورت کی عدت کی مدت حیض والی عورت کے لیے  تین حیض  ہیں، اور اگر عورت طلاق کے وقت حاملہ ہو تو پھر عدت کی مدت وضع حمل  ہے، یعنی جب بچہ پیدا ہوجائے تو عدت ختم ہوجائے گی۔اور اگر عورت کو  عمر کے کم یا زیادہ ہونے کی وجہ سے حیض نہیں آتا تو اس کی عدت  تین ماہ ہوگی ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما بيان أنواع العدد فالعدد في الشرع أنواع ثلاثة: عدة الأقراء، وعدة الأشهر، وعدة الحبل أما عدة الأقراء فلوجوبها أسباب منها: الفرقة في النكاح الصحيح سواء كانت بطلاق أو بغير طلاق۔۔۔وأما عدة الأشهر فنوعان: نوع يجب بدلا عن الحيض، ونوع يجب أصلا بنفسه أما الذي يجب بدلا عن الحيض فهو عدة الصغيرة والآيسة والمرأة التي لم تحض رأسا في الطلاق، وسبب وجوبها هو الطلاق۔۔۔وأما عدة الحبل فهي مدة الحمل، وسبب وجوبها الفرقة أو الوفاة."

( بدائع الصنائع، كتاب الطلاق، فصل فيما يتعلق بتوابع الطلاق 4/ 4، 415۔419ط:دارالکتب العلمیۃ)

تحفة الفقہاء میں ہے:

"وأما عدة الطلاق فثلاثة قروء في حق ذوات الأقراء إذا كانت حرة .....وأما في حق الحامل فعدتها وضع الحمل لا خلاف في المطلقة لظاهر قوله: {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن }."

(تحفة الفقهاء: كتاب الطلاق، باب العدة (2/ 244، 245)،ط. دار الكتب العلمية،بيروت )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404101192

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں