بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

طلاق کی صورت میں شوہر کا بیوی سے مہر کا مطالبہ کرنا


سوال

 میری شادی کو ایک  سال ہوگیاہے  ،  مجھے اللہ تعالیٰ نےلیلۃ القدر میں ایک بیٹے سے نوازا اور اس کے دوسرے دن ( 27 رمضان المبارک) کو میرے سسر نے اپنی بیٹی اور میری 3 چھوٹی سالیوں نے اپنی بڑی بہن کو مجھ سے جدا کردیا اور وہ اپنی مرضی سے چلی گئی ، جس پر میں نے اسے نفقہ دینا بند کردیا اور کہا کہ جب وہ واپس آئیگی تب جتنا نفقہ ادا کرنا پڑے کروں گا بچے کا ، کیوں کہ میری اہلیہ خود گھر پر کام کرکے پیسے کماکے دیکھ بال کر رہی ہے بیٹے کی، اس کے 40 دن گزرنے کے بعد میں نے اپنی اہلیہ کے گھر جاکر اپنی اہلیہ سے براہِ راست ملاقات کی اور بات کی ، اس کا مطالبہ ہے کہ میں اسے کرایہ  پر  گھر لے کر دوں ، جب کہ استطاعت نہ ہونے کی وجہ  سے میں نےاپنے گھر رہائش اختیارکرنے کو اسے منا بھی لیا تھا اور میں نے اپنی اہلیہ کو سمجھایا  کہ ( اپنے گھر میں الگ کمرہ ، واشروم اٹیچ باتھ روم اور کچن دینے کو تیار ہوں ) اور میری ذمہ داری  یہیں تک ہے یعنی الگ گھر کا مطالبہ ناجائز ہے ، تو اس بات میں میری اہلیہ نے کہا کہ فتویٰ دکھا دیں پھر فیصلہ کروں گی ، جب عصر کی نماز کے بعد فتویٰ لے کر گیا تو اس کے والد یعنی میرے سسر نے مجھ سے بد کلامی کی ۔ اب سسر کا    الگ گھر کا مطالبہ کر نا  اور میرے لیے اس گھر  جانے پر پابندی عائد کرنا یہ کونسی  انصاف کی بات ہے ؟ میں نے اپنے بڑوں کے ذریعے کہا  کہ اگر میرا سسر اپنی بیٹی کو واپس بھیج دے تو ٹھیک ہے ورنہ میرا حق مہر مجھے واپس کردیں اور میں نے اپنی اہلیہ کو 50 ہزار روپے دیا ہے جو میں نے اپنے لیے بیڈ روم کے لیے دیا تھا  کہ ( زندگی میں ساتھ نبھائیگی) اگر وہ میرے ساتھ زندگی گزارنے کو  تیار نہیں یا والدین روکیں تو اس صورت میں رہنمائی فرمائیں؟

جواب

واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں جب کہ شوہر اپنی بیوی کو استطاعت کے مطابق  اپنے گھر میں الگ کمرہ ، واشروم اٹیچ باتھ روم اور کچن دینے کو تیار ہے ، جو کہ شوہرپر لازم ہے ،اور بیوی بھی رہنے پر راضی ہے ، اس کے باوجود سائل کے سسر یا بیوی کاسائل سے  الگ گھر کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے ،   فریقین کو چاہیے کہ وہ  دونوں خاندانوں کے   گھر کے سمجھ دار اور دیانت دار بڑوں کو بٹھاکر  ان کے ذریعے اس  مسئلہ کوحل  کرانےکی کوشش کی جائے ، اگر کوشش کے باوجود بھی مصالحت کی کوئی راہ نہ بن پائے ، تو اس صورت میں شوہرکو طلاق دینے ،اور بیوی کو اپنے شوہر کی رضامندی سے اپنے شوہر سے خلع لینے کااختیار حاصل ہوگا ، باقی جہاں تک مہر کے واپس لینے  کی بات ہے تو خلع کے بغیرسائل کا مہر کے واپس کرنے کامطالبہ کرنادرست نہیں ، وہ عورت کاہی حق ہے ۔

قرآن مجید میں ہے:

"وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَٱبْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهٖ وَحَكَمًامِّنْ أَهْلِهَآإِنْ يُّرِيْدَآ إِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ ٱللّٰهُ بَيْنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللّٰهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيْرًا (٣٥)(سورة النساء)".

"ترجمہ:اور اگر تم اوپر والوں کو ان دونوں میاں بیوی میں کشاکش کا اندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتاہومرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتاہو عورت کے خاندان سے بھیجو ،اگر ان دونوں آدمیوں کو اصلاح منظور ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان میاں بی بی کے درمیان اتفاق پیدا فرمادیں گے،بے شک اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑے خبر والے ہیں ۔                                 (از:بیان القرآن)"

وفیہ ایضا:

"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ ٱللّٰهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا ٱفْتَدَتْ بِهِ.(البقرة: 229)".

"ترجمہ: سو اگر تم لوگوں  کو یہ احتمال ہو کہ دونوں ضوابط خداوندی کو قائم نہ کرسکیں گے تو کوئی گناہ نہ ہوگااس(مال کے دینے)میں جس کو دے کر عورت  اپنی جان چھڑالے۔(از :بیان القرآن)"

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع".

(کتاب الطلاق ، باب الخلع ج: 3 ص: 441 ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"(وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر ويتأكد (عند وطء أ خلوة صحت) من الزوج".

(کتاب النکاح ، باب المهر ج: 3 ص: 102 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501100741

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں