بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

طلاق کی خبر دینے سے طلاق کا حکم


سوال

 لڑکی کے شوہر نے اس کو سب کے سامنے ایک مرتبہ  طلاق کہی جس کی سب نے گواہی دی اس کے بعد  اس نے محلہ کے معزز کو کہا میں نے طلاق دے دی ہےاور لڑکی کے بھائی کو بھی کہہ دیا اپنی بہن لے جاؤ میں نے طلاق دے دی ہے دو دن بعد لڑکا اور اس کےگھر والے لڑکی کو لینے پہنچ گئے کہ اس نے سب کے سامنے ایک مرتبہ طلاق کہی ہے کیا ان کی طلاق ہوگئی یا ابھی دو باقی ہیں وہ آپس میں رجوع کرسکتے ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر شوہر کا  محلہ کے کسی ساتھی  اور اپنے سالے کے سامنے مذکورہ الفاظ کی ادائیگی سے اپنی بیوی کی طلاق کے بارے میں ان کو  خبر اور اطلاع  دینا مقصدتھا تو شرعا اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،اس لڑکی پر صرف ایک(سابقہ)طلاق واقع ہوئی ہے،اس صورت میں عدت میں رجوع کرکے میاں بیوی کی حیثیت سے دونوں  ایک ساتھ رہ سکتے ہیں،اس کے بعد شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار  باقی ہوگا، باقی اگر معاملہ بر عکس ہو تو شوہر اس کی وضاحت کر کے دوبارہ معلوم کرسکتا ہے۔  

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق، وإذا قال: أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال: قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة ‌لأنه ‌جواب، كذا في كافي الحاكم."

(کتاب الطلاق،باب صریح الطلاق،ج3،ص293،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501101372

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں