بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد بچے کی پرورش اور نان نفقہ کا حکم


سوال

﴿۱﴾۔۔۔نومولود بچے سسرال والے (بیوی کے گھر والے) اپنے پاس رکھ کر نومولود بچے کے والد کو دیکھنے بھی نہیں دیتے اس کے باوجود جو جو خرچہ اس بچہ پر سسرال والے کرتے ہیں کیا اس اخراجات کا مطالبہ کرسکتا ہے ؟ جبکہ نومولود بچے کے والد اس بچے کو اپنے بیوی سے بار بار منگواتا ہے تاکہ اس نومولود بچے کے اخراجات حسب استطاعت دیا جاسکے لیکن پھر بھی اس کے باوجود اس نومولود بچے کو اپنے والد سے ملنے کا موقع نہیں دیا جاتا ؟

﴿۲﴾۔۔۔جب لڑکا 7 سال کی عمر پہنچ جائے تو اس صورت میں اپنے بچے کو والد اپنے تحویل میں کیسے لیں جبکہ سسرال والے نہیں دیتے اور جھگڑا کرنے پہ تُلے ہوتے ہیں یا تو اس پر جتنے بھی خرچ کیے گئے ہیں اس کا ڈبل چارج لگاکے مطالبہ کرتے ہیں ، سسرال والوں کا اس بچہ کا اخراجات کا مطالبہ کرنا درست ہے ؟

﴿۳﴾۔۔۔اگر عدالتی کارروائی کے ذریعے خلع لے لیا جائے جبکہ شوہر اپنے بیوی کا نان نفقہ دینے پر آمادہ ہو اور اپنے گھر پر ایک ایسا کمرہ اٹیچ باتھ روم اور کچن دینے پر قادر ہو ، اور بیوی صرف و صرف الگ گھر کا مطالبہ پر تُلے ہوئے ہو ( شوہر اپنے گھر سے دور رہے) اور اپنے والدین کے کہنے پر خلع کا کیس دائر کرے تو شوہر اپنے دفاع کیسے کریں؟ (عدالتی نظام کے بارے میں کوئی علم نہیں)

﴿۴﴾۔۔۔اور کسی اور جگہ شادی کرنے پر آمادہ ہو تو اس صورت میں بچہ کس کے حوالے کیا جائے گا اور کیا ترتیب ہوگی ؟

﴿۵﴾۔۔۔والد نومولود بچے کے خرچہ اس لیے نہیں دے رہا کیونکہ سسرال والے اس بچے کو حسب استطاعت کے مطابق نہیں رکھے گا (کھلائے گا پلائے گا) تو اس صورت میں بچہ کا خرچہ، والد روک سکتا ہے ؟ اس بنیاد پر کہ جب بچہ اپنے میں جب تک نہ دیں تب تک خرچہ روکنا۔

جواب

1-میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی صورت میں لڑکے کی عمر7سال اور لڑکی کی عمر 9سال تک ماں کو بچوں کی پرورش کا حق حاصل ہے،اس دوران باپ کو بھی بچوں سے ملنے کا حق حاصل ہے،باپ کو اپنے بچوں  سے ملنے نہ دینا ظلم ہے،اور اس دوران بچوں کا نان نفقہ باپ پر ہی لازم ہے،البتہ اگر بیوی کے گھر والوں نےخود سے بچوں کا خرچہ اٹھایا ہے،تو گزشتہ عرصہ کے نفقہ کا مطالبہ  کرناشرعا درست نہیں،البتہ آئندہ بچوں  کانان نفقہ باپ پر ہی  لازم ہے۔

2۔جب لڑکے کی عمر 7 سال ہوجائے تو اس کے بعد پرورش  کا حق باپ کو حاصل ہے،اور اس کے لیے بیوی کے گھر والوں کا گزشتہ عرصہ کا نان نفقہ کا تقاضا کرنا چہ جائے کہ زیادتی کے ساتھ ہو،شرعا درست نہیں ہے۔باقی بچہ کو 7سال کے بعد اپنی تحویل میں لینے کے لیے عدالت سے رجوع کریں۔

3-شوہر نے مستقل کمرہ،غسل خانہ اور باورچی خانہ مہیا کردیا ہے تومستقل علیحدہ گھر کا مطالبہ کرنا شرعا درست نہیں ہے،اور اس  بنیاد پر نکاح ختم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا  بھی شرعا درست نہیں ہے،البتہ خلع کے لیےشوہر کی رضا مندی شرط ہے،باقی اگر بیوی کا اس کے علاوہ کوئی شرعی مطالبہ نہیں تو عدالت میں پیش ہوکر اس کے دعوی کی تردید کریں۔

4- اگر عورت علیحدگی کے بعد بچہ کے کسی غیر محرم سے شادی کرلے توپہلے شوہر  کی بیٹے کی پرورش کا حق  ختم ہوجاتا ہےاور یہ حق نانی، دادی، بہنوں، خالاؤں یا پھوپھیوں کو بالترتیب منتقل ہوتا ہے۔

5۔اگر پرورش کا حق ابھی ماں کے پاس ہے تو بچہ ماں کے پاس ہی رہے گا،اور بچہ کا خرچہ والد پر لازم ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(و) الحاضنة (يسقط حقها بنكاح غير محرمه) أي الصغير، وكذا بسكناها عند المبغضين له؛ لما في القنية: لو تزوجت الأم بآخر فأمسكته أم الأم في بيت الراب فللأب أخذه.

(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا."

(باب الحضانۃ،ج3،ص565،ط؛سعید)

وفیہ ایضاً:

"(قضى بنفقة غير الزوجة) زاد الزيلعي والصغير (ومضت مدة) أي شهر فأكثر (سقطت) لحصول الاستغناء فيما مضى، (قوله غير الزوجة) يشمل الأصول والفروع والمحارم والمماليك (قوله زاد الزيلعي والصغير) يعني استثناه أيضا فلا تسقط نفقته المقتضى بها بمضي المدة كالزوجة، بخلاف سائر الأقارب. ثم اعلم أن ما ذكره الزيلعي نقله عن الذخيرة عن الحاوي في الفتاوى، وأقره عليه في البحر والنهر وتبعهم الشارح مع أنه مخالف لإطلاق المتون والشروح وكافي الحاكم.مطلب في مواضع لا يضمن فيها المنفق إذا قصد الإصلاح وفي الهداية: ولو قضى القاضي للولد والوالدين وذوي الأرحام بالنفقة فمضت مدة سقطت؛ لأن نفقة هؤلاء تجب كفاية للحاجة حتى لا تجب مع اليسار وقد حصلت بمضي المدة، بخلاف نفقة الزوجة إذا قضى بها القاضي؛ لأنها تجب مع يسارها فلا تسقط بحصول الاستغناء فيما مضى. اهـ وقرر كلامه في فتح القدير. ولم يعرج على ما مر عن الذخيرة، على أنه في الذخيرة صرح بخلافه وعزاه إلى الكتاب فإنه قال فيها قال أي في الكتاب، وكذلك إن فرض القاضي النفقة على الأب فغاب الأب وتركهم بلا نفقة فاستدانت بأمر القاضي وأنفقت عليهم ترجع عليه بذلك، فإن لم تستدن بعد الفرض وكانوا يأكلون من مسألة الناس لم ترجع على الأب بشيء؛ لأنهم إذا سألوا وأعطوا صار ملكا لهم فوقع الاستغناء عن نفقة الأب، واستحقاق هذه النفقة باعتبار الحاجة. فإن كانوا أعطوا مقدار نصف الكفاية سقط نصف الكفاية عن الأب، وتصح الاستدانة في النصف بعد ذلك، وعلى هذا القياس، وليس هذا في حق الأولاد خاصة، بل في نفقة جميع المحارم إذا أكلوا من مسألة الناس لا رجوع لهم؛ لأن نفقة الأقارب لا تصير دينا بالقضاء بل تسقط بمضي المدة، بخلاف نفقة الزوجة. اهـ ومثله في شرح أدب القضاء للخصاف، وذكر مثله قاضي خان جازما به، وقد قال في أول كتابه: إن ما فيه أقوال اقتصرت فيه على قول أو قولين، وقدمت ما هو الأظهر وافتتحت بما هو الأشهر. وقد راجع الرحمتي نسخة من الذخيرة محرفة حتى اشتبه عليه ما مر بمسألة الموت الآتية وحكم على الزيلعي ومن تبعه بالوهم، وقال؛ لأن مراد الحاوي أن نفقة الصغير لا تسقط بعد الاستدانة، وأطال بما لا يجدي نفعا والصواب في الرد على الزيلعي ما قدمناه."

(کتاب الطلاق،باب النفقۃ،مطلب فی نفقۃ الاصول،ج3،ص633،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102154

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں