بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 محرم 1444ھ 18 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

طلاق رجعی کی عدت گزرنے کے بعد تجدید نکاح کی مدت


سوال

 میں نے ۲۸ مارچ کو اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی، اس کے بعد میں نے رجوع کرنے کی کوشش کی، مگر ممکن نہ ہوسکا، اور تین ماہواری گزر گئی، جس سے طلاق بائن واقع ہوگئی، اب اگر رجوع کرنا چاہوں تو دوبارہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ نکاح کرنا ہوگا، مگر کیا اس کے لیے وقت کی کوئی شرط ہے کہ اتنے عرصہ میں دوبارہ نکاح سے رجوع ہوسکتاہے یا پھر تین مزید ماہواری کے بعد دوبارہ نکاح سے رجوع کی شرط بھی ختم ہوجائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ ایک طلاقِ رجعی دینے کے بعد عدت کے دوران شوہر جب چاہے رجوع کرسکتا ہے،  اس کے بیوی کی رضامندی ضروری نہیں ہے، بلکہ زبان سے شوہر کا یہ کہہ دینا کہ میں نے رجوع کرلیا یا بیوی سے تعلق قائم کرلینے سے بھی رجوع ہوجاتا ہے، البتہ اگر عدت کے دوران نہ قولی رجوع ہوا ہو اور نہ عملی طور پر تو عدت گزرتے ہی نکاح ختم ہوجاتا ہے، اور طلاقِ رجعی طلاقِ بائن میں تبدیل ہوجاتی ہے، اس کے بعد میاں بیوی کو باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر اور شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے ایجاب وقبول کے ساتھ  تجدید نکاح کرنا ضروری ہوتا۔ اور تجدیدِ نکاح کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے، بلکہ ایک یا دو طلاق کے بعد اگر بیوی دوسرے کسی شخص کے نکاح میں  نہ  ہو تو پہلا شوہر جب چاہے بیوی کی رضامندی کے ساتھ اس سے  دوبارہ نکاح کرسکتا ہے، چاہے طلاق کو بہت زیادہ عرصہ گزرچکا ہو۔

نیز اگر شوہر نے ایک طلاق دی ہو تو آئندہ کے لیے شوہر کے پاس دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقةً رجعيةً أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض". 

(الباب السادس فيما تحل به المطلقة وما يتصل به ج:1، ص: 470، ط: ماجديه)

وفيه أيضاً:

"إذا كان الطلاق بائناً دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها".

 (كتاب الطلاق، فيما تحل به المطلقة وما يتصل به ج:1، ص: 473، ط: ماجديه)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"ولو تزوجها قبل التزوج أو قبل إصابة الزوج الثاني كانت عنده بما بقي من التطليقات".

(ج:6، ص: 65، ط: دارالكتب العلميه بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200194

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں