بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

طلاقِ معلق کے وقوع میں الفاظِ شرط کا اعتبار ہوگا


سوال

سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص غصے میں آکر یوں کہے کہ "اگر میں نے اپنے بھائیوں سے یا باپ سے پیسے لیےتو میری بیوی مجھ پر دس بار طلاق ہو،" پھر اگر وہ بھائی یا باپ کے ساتھ شریک ہوکر اُن کی آمدن سے کھانے، پینے کی اشیاء استعمال کرے،  یا بھائی کا فون استعمال کرے تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوگی یانہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر یہ شخص اپنے والد اور بھائیوں سے نقد رقم نہیں لیتا، بلکہ صرف ان کے پیسوں سے سے خریدی گئی اشیاء استعمال کرتا ہے تو اس کی بیوی پر طلاق نہیں واقع ہوگی، البتہ اگر اس شخص نے اپنے والد یا بھائیوں سے نقد پیسے لے لیے تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور وہ حرمتِ مغلظہ کے ساتھ اس پر حرام ہو جائے گی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(الأيمان مبنية على الألفاظ ‌لا ‌على ‌الأغراض فلو) اغتاظ على غيره و (حلف أن لا يشتري له شيئا بفلس فاشترى له بدرهم) أو أكثر (شيئا لم يحنث...

(قوله الأيمان مبنية على الألفاظ إلخ) أي الألفاظ العرفية بقرينة ما قبله واحترز به عن القول ببنائها على عرف اللغة أو عرف القرآن ففي حلفه لا يركب دابة ولا يجلس على وتد، لا يحنث بركوبه إنسانا وجلوسه على جبل وإن كان الأول في عرف اللغة دابة، والثاني في القرآن وتدا كما سيأتي وقوله: ‌لا ‌على ‌الأغراض أي المقاصد والنيات، احترز به عن القول ببنائها على النية. فصار الحاصل أن المعتبر إنما هو اللفظ العرفي المسمى، وأما غرض الحالف فإن كان مدلول اللفظ المسمى اعتبر وإن كان زائدا على اللفظ فلا يعتبر."

(كتاب الأيمان، ‌‌باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى والإتيان والركوب وغير ذلك، ج:3، ص:743، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

" ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده."

(کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، ج:1، ص:415، ط: رشیدیة)

وفیہ ایضاً:

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

(کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، ج:1، ص:420، ط: رشیدیة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501100676

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں