بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ربیع الثانی 1441ھ- 05 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

طلاق معلق کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم نے ایسی بات کہی جس سے مجھے غصہ آئے تو تجھے طلاق ، اس کے بعد بیوی نے کئی مرتبہ ایسی بات کہی جس سے خاوند کو غصہ آیا۔صورت مسئولہ یہ ہے کہ طلاق ایک مرتبہ واقع ہوئی یا تین مرتبہ غصہ دلانے سے تین مرتبہ واقع ہوئی ؟۔جزاکم اللہ خیرا

جواب

مذکورہ صورت میں جب اس شخص نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے ہیں کہ:"اگر تم نے ایسی بات کہی جس سے مجھے غصہ آیا تو تجھے طلاق" اور بیوی نے اس کو غصہ دلانے والی بات کہہ دی تو ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی،اس کے بعد دوبارہ ایسی بات کہنے سے کوئ طلاق واقع نہیں ہوئی۔


فتوی نمبر : 143507200040

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے