بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

طلاق بائن کی عدت کے بعد سابقہ شوہر کا مزید طلاق دینا


سوال

میرے شوہر نے مجھے ایک طلاق بائن دی ان الفاظ سے کہ ’’تم مجھ پر حرام ہو ‘‘،جس سے نکاح ٹوٹ گیا اور میں نے عدت شروع کردی ،دوران عدت شوہر نے کوئی رابطہ نہیں کیا ،سوال یہ ہے کہ طلاق بائن کی عدت ختم ہونے کے بعد کیا شوہر مزید طلاقیں دے سکتاہے؟یا طلاق بائن کی عدت  گزر جانے کے بعد دی گئی طلاق کی کیا حیثیت ہے؟

 

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ سائلہ کا سوال صحیح ہے کہ سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو ان الفاظ سے طلاق دی تھی کہ ’’تم مجھ پر حرام ہو‘‘،تو  سائلہ  پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی تھی ،جس کے بعد سائلہ  پر   عدت ( مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور اگر حمل تو بچہ کی پیدائش تک )  گزا رنالازم تھا ۔

طلاق بائن کی عدت مکمل ہونے کے بعد  نکاح  مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے،لہذا  اگر سابقہ شوہر مزید کوئی طلاق دیتا ہے تو وہ طلاق واقع نہیں ہوگی لغو شمار ہوگی ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة.

(قوله: ويلحق البائن) كما لو قال لها: أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال: أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية، ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة. وقال أيضا: قيدنا الصريح اللاحق للبائن بكونه خاطبها به وأشار إليها للاحتراز عما إذا قال كل امرأة له طالق فإنه لا يقع على المختلعة إلخ وسيذكره الشارح في قوله ويستثنى ما في البزازية إلخ ويأتي الكلام فيه (قوله: بشرط العدة) هذا الشرط لا بد منه في جميع صور اللحاق، فالأولى تأخيره عنها. اهـ."

(کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج:3، ص:306، ط:ایج ایم سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144412101430

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں