بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

طلاق دینے پر مالی جرمانے کی شرط


سوال

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیان دین ومتین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں:کچھ عرصہ سے ہمارے ہاں شادی میں نکاح کے وقت لڑکی والوں کی طرف سے کچھ شرائط عائد کی جارہی ہیں جس کی تفصیل یہ ہے کہ مہر کے علاوہ لڑکی کے رشتہ داروں کی طرف سے لڑکے کو کہا جاتا ہے کہ گھریلو ناچاقی کی صورت میں اگر طلاق کی نوبت آتی ہے تو لڑکی کو ایک لاکھ یا دو لاکھ یا کوئی بھی رقم دینی ہوگی۔ اس میں اس بات کی تخصیص نہیں کی جاتی ہے کہ آیا اگر ناچاقی کی صورت حال لڑکی کی طرف سے ہو یا لڑکے کی طرف سے۔اب اگر اس طرح کی کوئی نوبت آتی ہے کہ گھریلو ناچاقی پیدا ہو تو لڑکا پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کوئی فیصلہ نہیں کرپاتا اور نہ چاہتے ہوئے بھی بیوی کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی واضح کردیناچاہتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح بہت کم ہے اور الحمدللہ اس کی طرف بات نہیں جاتی۔لیکن لڑکے کو اس کا مقروض کردینا کہ نکاح کے وقت ہی اس پر یہ ذمہ داری لگادی جائے اور پھر وہ لڑکی کو اس کی کسی غلطی پر نہ ڈانٹ سکے شرعاً کیسا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو فطرت کے مطابق بنایا ہے اور اس میں کسی قسم کی تنگی نہیں رکھی اور ہر شخص کو اس کا جائز حق دیا ہے۔ لیکن کیا لڑکی والوں کی طرف سے اس طرح کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں۔ بندہ نے کچھ لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اس طرح کرنا عین نکاح کے وقت بے برکتی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے نکاح کو ایک مقدس اور پاکیزہ رشتہ بنایا ہے اور اس طرح شروع ہی میں شرط لگاکر اس کو گندہ نہیں کرنا چاہیے۔ آپ حضرات اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ اس طرح کرنا شریعت مطہرہ کی رو سے کیسا ہے؟ آیا اس طرح کی کوئی شرط رکھی جاسکتی ہے یا نہیں؟ ازراہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کے علم وعمل میں برکت عطا فرمائے۔ نیز اس بات کی بھی اجازت لینا چاہوں گا کہ اگر میں آپ کے اس فتوی کو عام کرنا چاہوں اور اپنے لوگوں کودکھانا چاہوں تو کیا آپ حضرات اس بات کی اجازت دیں گے؟

جواب

نکاح کا مقصد مقدس و پاکیزہ رشتہ کے ساتھ زندگی گذارنا ہے اگر لڑکی اور لڑکے کے خاندان والے گھر بسانے کے لیے پرعزم ہیں تو انہیں طلاق اور اس کی شرائط کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے، خدانخواستہ اگرنیت میں فتور ہوتو پھر لگا سکتے ہیں لیکن مالی جرمانہ کی شرط لگانا درست نہیں ہے۔بلکہ فریقین کو چاہئےکہ وہ طلا ق کی باتیں کرنے کے بجائے نکاح کو باقی ، بامقصد اور پرسکون بنانے کے لیے عملی طور پر کوششیں اور کردار ادا کریں۔ واضح رہے کہ اس فتویٰ کو عام نہیں کرسکتے اگرایسی نیت ہوتو دارالافتاء سے استفتاء کرلیں اوراس کی مہر اور دستخط والے فتویٰ کو افادۂ عام کے لیے دیگر عزیزوں کو بھی دکھاسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200257

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے