بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

"میں فلاں بن فلاں اپنی بیوی فلاں کو تین شرائط پر طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں " کہنے کا حکم


سوال

میری ایک رشتہ دار کے ساتھ ایک واقعہ اس طرح سے ہوا ایک شادی شدہ شخص اس سے شادی کرنا چاہتا تھا، وہ اس کے سامنے اپنی بیوی کو اس کا نام لے کر جیسے میں فلاں بن فلاں اپنی بیوی فلاں کو تین شرائط پر طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں ۔اور پھر لکھ کر بھی دیتا ہے۔ اور جب اس شخص کے گھر والوں کو علم ہو تا ہے تو وہ مکر جاتا ہے  کہ میں نے طلاق نہیں دی، کیا اس طرح اس کی بیوی اس پر طلاق ہو جاتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں مذکورہ شخص نے  اگر واقعتًا  اپنی  پہلی بیوی کا نام لے کر  مذکورہ  الفاظ کہے ہوں  تو اس سے  اس  کی پہلی بیوی پر تین طلاقیں پڑچکی ہیں، اور وہ اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، اب نہ رجوع جائز ہے اور نہ نیا نکاح ہوسکتا ہے۔  البته اگر عورت عدت کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرتی ہے اور  نکاح و ملاقات کے بعد وہ شخص مرجاتا ہے  یا  اس کو طلاق  دے  دیتا ہے تو  پھر عدت کے  بعد  پہلے شوہر سے نکاح کرنا جائز ہوجائےگا۔

قرآن کریم میں ہے :

{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}  [البقرة:229]

بخاری شریف میں ہے:

"عن عائشة رضي الله عنها: أنّ رفاعة القرظي تزوّج امرأةً، ثمّ طلّقها فتزوّجت آخر فأتت النبيّ صلّى الله عليه و سلّم فذكرت له أنه لايأتيها وأنه ليس معه إلا مثل هدبة، فقال: لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك."

(أخرجه البخاري في أب إذا طلّقها ثلاثًا، ثم تزوّجت بعد العدة زوجًا غيره فلم يمسّها، (5/ 2037) برقم (5011)،ط.دار ابن كثير ، اليمامة - بيروت، الطبعة الثالثة ، 1407 - 1987)

فتاوى هنديه میں ہے:

"في المحيط: لو قال بالعربية: أطلّق لايكون طلاقًا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقًا."

(الفتاوی الهندية:كتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية (1/ 384)،ط. رشيديه)

 فتاوى هنديه میں ہے:

"و إن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها، ثمّ يطلّقها أو يموت عنها، كذا في الهداية."

(الفتاوی الهندية:كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، (1/ 473)،ط. رشيدیه)

  فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144205201579

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں