بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

طلبہ اور اساتذہ کے لیے مدرسہ کے مطبخ سے کھانا کھانے کا حکم


سوال

مدرسہ کے مطبخ سے طالب علم اور اساتذہ کے لیے کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟ ان میں سے کوئی زیادہ لے سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

اگر مدرسہ کا کھانا نفلی صدقات اور عطیات سے تیار ہوتا ہے تو مدرسہ کی انتظامیہ کی طرف مقرر کردہ اصول ضوابط کی رو سے جن طلبہ اور اساتذہ کو مطبخ سے کھانا کھانے کی اجازت ہو،  صرف وہی طلبہ اور اساتذہ مدرسہ  کے مطبخ سے کھانا کھاسکتے ہیں، اور اگر مدرسہ  کے مطبخ کا کھانا زکات اور دیگر صدقاتِ  واجبہ کی رقوم سے بنایا جاتا ہے تو  مدارس کے مطبخ میں زکاۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ کی رقوم استعمال کرنے کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے مستحق طلبہ کو رہائش وطعام اور دیگر تعلیمی ضروریات کی مد میں وظائف جاری کیے جائیں، اور طلبہ وظیفہ  مالکانہ طور پر وصول کرنے کے بعد مدرسہ انتظامیہ کو طعام ورہائش اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے  یہ رقم بطورِ وکیل حوالہ کردیں، اور طلبہ کی طرف سے انتظامیہ کو اس بات کی اجازت ہو کہ ان وظائف سے طلبہ کو  مہیا کی جانے والی تمام خدمات پوری کی جائیں  گی۔

پھر ایسی صورت میں  مدرسہ کی انتظامیہ جو ضابطہ بنادے اسی کے مطابق عمل ہوگا،مثلاً:

1-  اس کھانا  کھانے کی  صرف مستحق  طلبہ  کو  اجازت ہوگی  اور  اساتذہ اور غیر مستحق طلبہ  معاوضہ دے کر کھائیں گے  تو اسی کے مطابق عمل کرنا ضروری ہوگا،  اس صورت میں کھانے کی رعایتی قیمت (اشیاء کی ہول سیل قیمتوں کے اعتبار سے ) مقرر کرنے کی اجازت ہوگی۔

2-  طلبہ کو وظیفہ جاری کرتے وقت اور طلبہ کی طرف سے جمع کراتے وقت اس بات کی صراحت یا اجازت ہوکہ طلبہ کی طرف سے جمع کردہ اس رقم سے طلبہ کی تمام ضروریات بشمول اساتذہ کی خدمات کا انتظام کیا جائے، تو اس صورت میں ادارے کی طرف سے تمام اساتذہ کے لیے کھانا جاری کرنا درست ہوگا، البتہ ایسی صورت میں غیر مستحق طلبہ اور دیگر عملہ جس کا طلبہ کی ضروریات سے تعلق نہ ہو،  انہیں بلاعوض کھانا جاری کرنا درست نہیں ہوگا۔

بہرحال مذکورہ  صورت اختیار کرنے کے بعد بھی غیر مستحق   (صاحبِ نصاب اور  ہاشمی گھرانے سے تعلق رکھنے والے) افراد کے لیے مناسب ہے کہ وہ کھانا خرید کر استعمال کریں۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200073

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں