بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

تالاب میں مینڈک گرنے کی صورت میں پانی اور نمازوں کا حکم


سوال

 ہماری مسجد  کے  کنویں میں  مینڈک مرا  ہوا   ملتا ہے ،کبھی پھٹ گیا ہوتاہے اس میں، مطلب ریزہ ریزہ  ہوچکا ہوتاہے،  اور کبھی کبھی صرف سوجا ہوا ہوتا ہے ، یہ تالاب دس ضرب دس بھی نہیں ہے،  اب اس میں مینڈک گرگیا  ہے اور یہ  پتہ نہیں کہ اس میں خود پیدا ہوا  ہے یا باہر سے گر ا ہے  اس میں ،تو براہ مہربانی وضاحت فرمائیں کہ اس پانی کا کیا حکم ہے اور اس پر وضو کرنے والے نمازی کے نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مینڈک دو قسم کے ہوتے ہیں: (1) خشکی والا                                            (2) پانی والا۔ دونوں کا حکم جدا جدا ہے۔

اگر  تالاب  میں گرنے والا  مینڈک پانی والا ہے تو اس  میں مرنے کی صورت میں تالاب  کا پانی ناپاک  نہیں ہوگا، لیکن اگر وہ مینڈک خشکی میں زندگی بسر کرنے والا ہے، تو دیکھا جائے گا کہ اگر وہ اتنا چھوٹا ہے کہ اس میں بہنے والا خون نہ ہو تو اس چھوٹے مینڈک کے  تالاب میں گرنے سے بھی  پانی  ناپاک نہیں ہوگا۔

اور اگر خشکی کا مینڈک بڑا ہو جس میں بہنے والا خون ہو (ایسے مینڈک  کی نشانی یہ ہے کہ اس کے انگلیوں کے درمیان پردہ نہیں ہوتا)  تو  اس مینڈک کے  گرکر مرجانے کی صورت میں تالاب  کو دیکھا جائے گا، اگر وہ (225) اسکوائر فٹ یا اس   سے بڑا ہو تو  پانی ناپاک نہیں ہوگا۔ اور اگر  (225)  اسکوائر فٹ  سے كم ہو  تو  پانی ناپاک ہوگا اوراس   کا پورا پانی نکالنا ضروری ہوگا،  اس دوران  (مینڈک مرنے سے لے کر تالاب پاک کرنے تک کے دوران) اس پانی سے وضو  یا غسل کرکے جو نمازیں ادا کی گئیں ہیں  ان کا اعادہ بھی  کرنا ہوگا، اور جو کپڑے  اور برتن دھوئے گئے ہیں  وہ دوبارہ پاک کرنے ہوں گے۔اوراگر مینڈک کے گر کر مرنے کا وقت معلوم ہوتو اس وقت سے جو نمازیں اس پانی سے وضو کرکے پڑھی گئی ہوں ان  نمازوں کا اعادہ لازم ہوگا اور اگر وقت معلوم نہ ہو،تو     مینڈک پھولنے کی صورت میں  تین دن تین رات کی نمازوں کا لوٹانا ضروری ہوگا۔اور نہ پھولنے کی صورت میں ایک دن ایک رات کی نمازوں کا اعادہ کرنا لازم ہوگا ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(ويجوز) رفع الحدث (بما ذكر وإن مات فيه) أي الماء ولو قليلا (غير دموي  كزنبور) وعقرب وبق: أي بعوض، وقيل: بق الخشب. وفي المجتبى: الأصح في علق مص الدم أنه يفسد ومنه يعلم حكم بق، وقراد وعلق. وفي الوهبانية دود القز وماؤه وبزره وخرؤه طاهر كدودة متولدة من نجاسة (ومائي مولد) ولو كلب الماء وخنزيره (كسمك وسرطان) وضفدع إلا بريا له دم سائل، وهو ما لا سترة له بين أصابعه، فيفسد في الأصح كحية برية، إن لها دم وإلا لا (وكذا) الحكم (لو مات) ما ذكر (خارجه وبقي فيه) في الأصح، فلو تفتت فيه نحو ضفدع جاز الوضوء به لا شربه لحرمة لحمه

(قوله: وإلا لا) أي وإن لم يكن للضفدع البرية والحية البرية دم سائل فلا يفسد".

(کتاب الطہارۃ،باب المیاہ،ج:1،ص:183،سعید)

حلبی کبیر میں ہے:

" وإذا کان الحوض عشراً في عشر فهو کبیر لایتنجس بوقوع النجاسة ... إذا لم یرلها أثر".

(کتاب الطہارۃ،فصل فی احکام الحیاض،ص:98،سہیل اکیڈمی)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وإذا وجد في البئر فأرة أو غيرها ولا يدرى متى وقعت ولم تنتفخ أعادوا صلاة يوم وليلة إذا كانوا توضئوا منها وغسلوا كل شيء أصابه ماؤها وإن كانت قد انتفخت أو تفسخت أعادوا صلاة ثلاثة أيام ولياليها وهذا عند أبي حنيفة - رحمه الله - وقالا: ليس عليهم إعادة شيء حتى يتحققوا متى وقعت. كذا في الهداية وإن علم وقت وقوعها يعيدون الوضوء والصلاة من ذلك الوقت بالإجماع".

(کتاب الطہارۃ،الباب الثالث فی المیاہ،ج:1،ص؛20،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405100923

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں