بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

تخلیقِ انسانی کے مختلف ادوار سے متعلق ایک حدیث


سوال

بحوالہ احادیث ، انسان کی تخلیق کے متعلق بتادیں۔

جواب

اولاً تو یہ واضح رہے کہ قرآنِ کریم میں  سورۂ   مومنون  (آیت:۱۲تا۱۴) میں انسان کی تخلیق کے درج ذیل  سات مراحل مذکور ہیں:

"وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ (12) ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ (13) ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (14)".

(سورة المؤمنون:12-14)

ترجمہ:

’’۱۔اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے بنایا ،۲۔پھر ہم نے اس کو نطفہ سے بنایا جو  کہ ایک محفوظ مقام  میں رہا،۳۔پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنادیا،۴۔پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑے کو  بوٹی بنادیا،۵۔پھر ہم نے اس بوٹی  کو ہڈیاں بنادیا، ۶۔پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھادیا،۷۔ پھر ہم نے اس کو ایک دوسری ہی مخلوق بنادیا ، سوکیسی بڑی شان ہے اللہ کی ،جو تمام صناعوں سے بڑھ کر ہے‘‘۔

(بیان القرآن،سورۃ المؤمنون، ج:۲، ص:۸۶۔۸۷، ط: میر محمد کتب خانہ، آرام باغ، کراچی)

کتب ِ حدیث میں سے "صحيح البخاري"، "صحيح مسلم"، "سنن أبي داود"، "سنن الترمذي"، "سنن ابن ماجه"ودیگر کتبِ حدیث میں یہی مضمون کچھ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔"صحيح البخاري"کی حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"حدّثنا الحسن بن الربيع، حدّثنا أبو الأحوص عن الأعمش عن زيد بن وهب، قال عبد الله: حدّثنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- -وهو الصّادق المصدوق-، قال:  إنّ أحدكم يجمع خلقه في بطن أمه أربعين يوماً، ثمّ يكون علقة مثل ذلك، ثمّ يكون مضغة مثل ذلك، ثم يبعث الله ملكاً فيؤمر بأربع كلماتٍ، ويقال له: اكتب عمله ورزقه وأجله وشقي أو سعيد، ثمّ ينفخ فيه الروح، فإنّ الرجل منكم ليعمل حتّى ما يكون بينه وبين الجنّة إلّا ذراع، فيسبق عليه كتابه، فيعمل بعمل أهل النار، ويعمل حتّى ما يكون بينه وبين النار إلّا ذراع، فيسبق عليه الكتاب، فيعمل بعمل أهل الجنّة".

(صحيح البخاري، كتاب بدء الخلق، باب ذكر الملائكة، 4/111، رقم:3208/كتاب أحاديث الأنبياء، باب خلق آدم، 4/133، رقم:3332/ كتاب القدر، باب في القدر، 8/122، رقم:6594، ط: دار طوق النجاة)

ترجمہ:

’’حضرت عبد اللہ(ابنِ مسعود) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  ہم سے فرمایا(اور وہ خود بھی سچے ہیں، (اللہ تعالی کی طرف سے بذریعہ وحی) سچ  باتیں بتائے  ہوئے ہیں): بلاشبہ تم میں سے ہر  ایک   شخص کی تخلیق اس طرح ہوتی ہے کہ (پہلے) وہ چالیس دن تک ماں کے پیٹ میں (نطفہ کی شکل میں) جمع رہتا ہے(یعنی استقرارِ حمل کے بعد چالیس دن تک نطفہ میں کوئی خاص  تغیر نہیں آتا)،پھر  اتنے ہی دنوں (یعنی چالیس دن )کے بعد  وہ جما ہوا خون بن جاتا ہے ،پھر  اتنے ہی  دنوں کے بعد وہ لوتھڑا  بن جاتا ہے ۔ پھر اللہ  تعالی( اس کے پاس)  ایک فرشتہ بھیجتے ہیں ،جسے چار باتوں(کے لکھنے ) کا حکم دیا جاتا   ہے،چنانچہ اسے کہاجاتا ہے:لکھ ۱۔اس کا عمل،۲۔اس کی روزی (کی مقدار)،۳۔اس کی موت کا وقت،۴۔اور یہ کہ وہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت۔ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔بلاشبہ تم میں سے  ایک آدمی(جنتیوں جیسے) عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ  (کا فاصلہ)رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا ہوا  غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں جیسےکام  کرنے لگتا ہے( اور  دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے)۔اور تم میں سے  ایک آدمی (دورخیوں جیسے)عمل کرتا رہتا ہے ،یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ(کا فاصلہ) رہ جاتا ہے  کہ تقدیر کا لکھا   ہوا غالب آجاتا ہے او روہ جنتیوں جیسے عمل کرنے  لگتا ہے(اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے)‘‘۔

 سورۂ  نور کی مذکورہ بالا آیاتِ کریمہ اور "صحيح البخاري" کی مذکورہ روایت کی روشنی میں  انسان کی تخلیق سے متعلق درج ذیل تفصیل معلوم ہوتی ہے:

۱۔انسان   پیدائش کے وقت چالیس دن تک ماں کے  پیٹ میں نطفہ کی شکل میں رہتا ہے،اس دوران اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی ۔

۲۔پھر  چالیس دن کے بعد  وہ جمے ہوئے خون کی شکل  اختیار کرلیتا ہے۔

۳۔پھر چالیس دن   کے بعد  وہ گوشت  کے لوتھڑے کی شکل اختیار کرلیتا ہے، اور اس پر ہڈیاں اور گوشت چڑھا دیا جاتا ہے۔

۴۔پھر اللہ  تعالی اس کے پاس  ایک فرشتہ بھیجتے ہیں ،جسے   ا س کے متعلق چارباتوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے:

۱- انسان کا عمل،۲۔اس کی روزی کی مقدار،۳۔اس کی موت کا وقت،۴۔ اوریہ کہ  وہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت،چنانچہ فرشتہ  اللہ تعالی کے حکم کے مطابق یہ سب چیز یں لکھ دیتا ہے۔

۵۔پھر  آخر میں اس میں روح پھونک دی  جاتی ہے۔

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506100940

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں